معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 170494

تمہارے والد کو کہو کہ تمھارے لیے لڑکا دیکھ لے
کیا فرماتے ہیں مفتیان اکرام مسئلہ ذیل کے بارے میں، میری بیوی کی میرے گھر والوں سے کافی بحث و تکرار ہوئی جس پر اس نے گھر جانے کی اور واپس نہ لوٹنے کی دھمکی دی، وہ بالکل بلند آواز سے جھگڑا کر رہی تھی جس سے آس پاس کے لوگ بھی متوجہ ہو گئے ہوں گے ، میں نے اسے خاموش کرنے کی اور نہ میکہ نہ جانے کے لئے روکنے کی حتی الامکان کوشش کی، پر وہ بضد تھی کہ میری بات بھی نہیں سن رہی تھی، اور آخر کار اپنا سامان باندھ کر اپنے بھائی کے ہمراہ جانے کو تیار بھی ہوگئی، اس کا بھائی کسی کام کے سلسلے میں آیا تھا اور گھر کے لئے نکل ہی رہا تھا، یہ سارت معاملات سے مجھے بہت زیادہ چڑھ آگئی اور جب وہ گھر سے بالاخر نکل ہی گئی جس میں میری بالکل رضا مندی نہ تھی تو میں نے چڑھ کر اور ڈرانے کے لئے یہ جملے کہے 'اب جارہی ہے نا تو وہیں پر رہنا اور تیرے باپ سے کہنا تیرے لئے کوئی دوسرا لڑکا دیکھ لے اس طرح سے زندگی نہیں کٹے گئی' میرے ایسا کہنے میں بالکل یہ نیت نہ تھی کہ واقعی میں ایسا کوئی کام کیا جائے ، مسئلہ درپیش یہ ہے کہ کیا ایسا کہنے سے کنایہ طلاق پڑ گئی جب کہ میری نیت وہ بالکل نہ تھی، براہِ کرم تشفّی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: May 18, 2019

جواب # 170494

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1043-882/H=09/1440



”تیرے باپ سے کہنا تیرے لئے کوئی دوسرا لڑکا (شوہر) دیکھ لے“ یہ جملہ آپ نے بغیر نیت طلاق کہا تھا اور اس جملہ کے علاوہ کوئی اور لفظ بہ سلسلہٴ طلاق نہیں بولا نہ ہی کبھی کسی قسم کی کوئی طلاق دی تو اِس جملہ (تیرے باپ اھ) سے کسی قسم کی طلاق بیوی پر واقع نہ ہوئی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات