معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 169565

فقہائے کرام الفاظ کنایات سے وقوع طلاق کے لئے نیت یا دلالت حال یعنی غضب ومذاکرہ طلاق کو ضروری قرار دیتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کنائی الفاظ سے معلق طلاق دیتا ہے تو کیا اس تعلیق کو نیت یا غضب کے قائم مقام قرار دیا جئے گا ، یا تعلیق کے باوجود نیت ہونے نہ ہونے پر مدار ہوگا؟

Published on: Apr 30, 2019

جواب # 169565

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 811-789/L=08/1440



الفاظ کنایات سے وقوع طلاق میں جو تفصیل ہے اس تفصیل کا لحاظ تعلیق کی صورت میں بھی ہوگا، محض تعلیق غضب کے قائم مقام نہ ہوگی الا یہ کہ قرائن سے پتہ چلے اس نے تعلیق غضب کی وجہ سے کی تھی لیکن اس صورت میں بھی مدار غضب ہوگا نہ کہ تعلیق۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات