معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 168867

میرا آپ سے سوال ہے کہ ایک بندہ وسوسہ اور وہم کے عارضہ میں مبتلا ہے ۔اور اس وجہ سے اس کی کیفیت تعزیت کے قابل ہے ،جسے ہر وقت یہ وسوسہ رہتا ہے کہ یہ بات کہنے سے طلاق ہو جائے گی۔نیت ،ارادہ نہ بھی ہو تو بھی شیطان یہ خیال دل میں ڈال دیتا ہے کہ ایسا کہا ہے تم نے ،ایسے میں اگر وہ شخص کبھی خود کلامی میں یا پھراس کے دل میں ہی یہ خیال آ جائے کہ میں نے دی ہے طلاق، یا یہ کہ نہیں صرف خیال آیا تھادی نہیں تھی، تو کیا اس سے ہو جائے گی طلاق؟کہیں یہاں پے طلاق کے جھوٹے اقرار والا اصول تو نافذ نہ ہوگا۔رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Feb 28, 2019

جواب # 168867

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 550-469/D=06/1440



وسوسہ میں مبتلا شخص کو اس طرح کے توہمات پیش آتے ہیں آپ ان کی طرف دھیان نہ دیں اس طرح کے وساوس اور خیالات کے آنے سے طلاق نہیں پڑتی اس طرح سے طلاق کا اقرار نہیں ہوتا نہ جھوٹا نہ سچا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات