معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 168167

میرا ایک سوال ہے، جب بھی کوئی انسان منہ سے کسی دوسرے کی طلاق کا ذکر کرتاہے یا کسی اور کے ساتھ ایسی باتیں کررہا ہو اور میں بھی اگر ان باتوں میں شریک ہوجاؤں تو باتیں ختم ہونے کے بعد مجھے ایسے وسوسے ہونے لگتے ہیں کہ کہیں ان ساری باتوں کے درمیان میرے منہ سے کہیں ایسے الفاظ نہ نکل گئے ہوں جن کی وجہ سے میرے اپنے رشتے میں کوئی فرق آجائے۔ تو پوچھنا یہ تھا کہ انسان کو خود کتنا پرسینٹ یاد ہو اور یقین ہو اپنی بات کا کہ اس نے خود ایسا بولا ہے یا نہیں بولا اپنے بارے میں؟

Published on: Jan 31, 2019

جواب # 168167

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 442-370/D=05/1440



محض ذہن میں طلاق کے خیالات آنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے، جب تک زبان سے بیوی کے لئے طلاق کے الفاظ نہ بولے جائیں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ عن اللیث: لایجوز طلاق الموسوس۔ قال: یعنی المغلوب في عقلہ (شامی: ۶/۳۵۹، ط: زکریا دیوبند) لہٰذا صورت مسئولہ میں طلاق کی باتیں کرنے سے جو آپ کو یہ وسوسہ ہوتا ہے کہ ” ہو سکتا ہے کہ میری زبان سے طلاق کے الفاظ نہ نکل گئے ہوں اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات