معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 165454

شوہر اور بیوی فون پر بات کرتے ہوئے اگر کسی بات پر لڑ پڑیں اور بیوی شوہر کو بولے مجھے آئندہ فون اور میسج مت کرنا اور ختم کرو یہ رشتہ۔ اور شوہر بغیر نیت طلاق کے بولے، ہاں ٹھیک ہے ختم کر دو ، تو کیا شوہر کا ایسا بغیر نیت طلاق کے ایسا الفظ بولنے سے نکاح میں کوئی فرق تو نہیں آتاہے؟

Published on: Oct 23, 2018

جواب # 165454

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 67-54/B=2/1440



طلاق واقع ہونے کے لئے ایقاع طلاق کا لفظ بولنا شوہر کے لئے ضروری ہے مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہوئی۔ یہ صرف غصہ کا اظہار ہے، رشتہ ختم کرو، میں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ فون کرنے اور میسج دینے کا رشتہ و تعلق ختم کرو۔ بہرحال یہاں کوئی ایقاعی جملہ طلاق کے لئے طلاق کی نیت سے نہیں کہا ہے اس لئے کوئی طلاق واقع نہ ہوئی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات