معاشرت - طلاق و خلع

Japan

سوال # 165357

شوہر کا وقتا فوقتا اس بات کا اعادہ کرنا کہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا کہ شریعت نے مجھے اسکا حق دیا ہے ۔ اس صورت میں پریشان ہو کر بیوی خلع کا مطالبہ کرے اس پر بھی اگر شوہر خلع دینے پر بھی رضامند نہ ہو تو عورت کیا کرے ؟ چونکہ ہم غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں جہاں پر شرعی پنچایت یا شرعی کورٹ کا تصور بھی نہیں۔ مقامی قوانین کے مطابق خلع یا طلاق لینا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟یا پھر دوسری صورت ہو تو رہنمائی فرمائیں ۔ چونکہ خلع ناگزیر ہوگئی ہے ، اس لیے جلداز جلد جواب عطا فرمائیں۔ جزاک اللہ خیر

Published on: Oct 13, 2018

جواب # 165357

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 50-10/D=1/1440



بیوی کی طرف سے خلع کا مطالبہ ہونے کی صورت میں جب تک شوہر خلع کومنظور نہ کرے رشتہٴ نکاح ختم نہیں ہوگا۔



شوہر کی جانب سے اس جملہ کے بار بار دہرانے سے کہ ”میں تمہیں طلاق دیدوں گا“ کسی قسم کی طلاق نہیں پڑی کیونکہ یہ دھمکی کا جملہ ہے۔ آپ جس جگہ مقیم ہیں وہاں اگر شرعی پنچایت وغیرہ نہیں ہے تو بھی اس بات کی کوشش کریں کہ زوجین باہم موافقت پیدا کرکے خوشگوار ازدواجی زندگی گزاریں بلا کسی بڑی مجبوری اور پریشانی کے علیحدگی اختیار کرنے کی بات نہ سوچی جائے۔



اور اگر بظاہر حالات نباہ ہونا مشکل نظر آتا ہو تو کسی طرح شوہر کواولاً موافقت پر اور یہ ممکن نہ ہو تو طلاق دینے یا خلع کرنے پر آمادہ کرلیا جائے اور اس کام کے لئے دونوں جانب سے ایک ایک دو دو آدمی مل بیٹھ کر معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کریں جب کہ قرآن شریف میں ہدایت دی گئی ہے اور یہ وعدہ فرمایا گیا ہے کہ درمیانی لوگ اگر نیک نیتی کے ساتھ مصالحت کرنے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالی زوجین کے درمیان موافقت پیدا فرمادیں گے یعنی ایسے حالات بن جائیں گے کہ دونوں موافقت کے ساتھ رہنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔



اوراگر موافقت پیدا ہونے کی امید نہ ہو اور درمیانی لوگ بھی یہ طے کریں کہ باہم طلاق کا معاملہ ہو جانا چاہئے تو پھر شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے اگر تیار نہ ہو تو خلع کا معاملہ کیا جائے یعنی معافی مہر کے ساتھ علیحدگی ہو جائے اس پر بھی تیار نہ ہو تو نقد وغیرہ کی پیش کش کی جائے یا دباوٴ اور اصرار کیا جائے بہرحال شوہر کا طلاق دینا یا خلع پر تیار ہونا رشتہ نکاح ختم ہونے کے لئے ضروری ہے خواہ جس طرح بھی اسے تیار کیا جائے حرص و طمع سے زور دباوٴ سے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات