معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 164337

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس کے گھر چند دنوں کے لیے بھیجا تھا اور اس کی بیوی نے واپسی آنے میں دیر کردی تو اس شخص نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے غصے میں ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے کنایہ الفاظ مثلاً میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے مت آ اپنے میکے ہی رہ لے استعمال کرے اور طلاق کا پہلے کوئی ارادہ نہ تھا اور اس کو اس چیز کا بھی علم نہیں تھا کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے نکاح میں فرق آجائے گا تو کیا حکم ہے اور یہ سب اپنے میکے سے آنے میں دیر کرنے کی وجہ سے ہوا برائے مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں آپکی عین نوازش ہوگی۔ فقط والسلام

Published on: Sep 11, 2018

جواب # 164337

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1386-1212/D=12/1439



صورت مسئولہ میں (۱) میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے



(۲) مت آ اپنے میکے میں رہ لے



یہ دونوں جملے طلاق کے لیے کنایہ ہیں جس میں نیت کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے پس ان دونوں جملوں میں سے کسی ایک سے یا دونوں سے طلاق کی نیت کرنے سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی اور نیت نہ ہونے کی صورت میں کوئی طلاق نہ پڑے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات