معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 161553

حضرت، میں سعودی عرب میں رہ رہا ہوں۔ میری شادی کو چار سال ہو چکے ہیں میری ایک بیٹی بھی ہے تین سال کی۔ میں اپنی بیوی کے مزاج سے خوش نہیں ہوں۔ میری بیوی غصہ کی تیز ہے جس کی وجہ سے روز ہمارے گھر جھگڑا ہوتا رہتا ہے ۔ اس کا اثر میری بیٹی پر بھی پڑتا ہے۔ کوئی بھی مسئلہ آجائے میری بیوی بولنا شروع کردیتی ہے او رمیری بے عزتی کرنا شروع کردیتی ہے (تم کسی کام کے نہیں، تم نے مجھے دیا کیا ہے، تم جاہل ہو، میں کہاں پھنس گئی وغیرہ) یہاں تک کہ وہ غصہ میں مجھ پر ہاتھ تک اٹھا چکی ہے، جس کے جواب میں مجھے بھی ہاتھ اٹھانا پڑتا ہے۔ میں چار سال سے یہ سب برداشت کر رہا ہوں لیکن اب میری بس ہو چکی ہے۔ مجھے کوئی حل بتادیں۔ آجکل میرے دل میں بہت زیادہ خیال آرہا ہے کہ میں صرف ایک طلاق دے دوں۔
ایک اور بات واضح کردوں کہ میری بیوی کی پیدائش یہاں سعودی عرب میں ہوئی ہے۔ لیکن میں پاکستان میں پیدا ہوا ہوں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے مزاج نہ ملنے کی۔ مجھے بس میری بیٹی کا خیال آجاتا ہے ورنہ میں کب کی طلاق دے چکا ہوتا۔ مجھے وضاحت سے اس کا حل بتادیں۔ اگر طلاق ہی اس کا حل ہے تو شریعت کے مطابق طلاق کیسے دی جائے؟ وضاحت فرمادیں۔ جزاک اللہ

Published on: May 27, 2018

جواب # 161553

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1119-928/sd=9/1439



 جب آپ کو معلوم ہے کہ بیوی غصہ کی تیز ہے ، تو اُس کے غصے کی طرف دھیان نہ دیں، اپنی طرف سے خوش اخلاقی کا معاملہ کرتے رہیں،طلاق کے بارے میں نہ سوچیں، حکمت اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کریں، بہتر یہ ہے کہ گھر میں کسی اصلاحی کتاب، مثلا: فضائل اعمال، حیاة المسلمین، جزاء الاعمال ، اصلاحی خطبات ،وغیرپڑھ کر سنانے کا معمول بنالیں ۔



--------------------



نوٹ: دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر طلاق ایک مستحکم قانون کے نام سے ایک رسالہ موجود ہے اسے اچھی طرح پڑھ کر سمجھ لیں پھر جو مشورہ کرنا ہو معلوم کرلیں۔ (د)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات