معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 160905

در اصل موضوع سخن یہ ہے کہ ابھی چند دن پہلے میرے دوست نے اپنی اہلیہ سے فون پر بات کرتے ہوئے بیوی کے بات نہ کرنے کی شکایت پر بطور تنبیہ ایک کی نیت سے تین دفعہ لفظ طلاق استعمال کیا۔ دوست کا کہنا ہے اس کی طلاق کی نیت قطعی نہیں تھی اور طلاق ثلاثہ کی تو قطعی نیت نہیں تھی، اس صورت میں کیا کہتے ہیں مفتیان کرام کیا ایک طلاق واقع ہوگی یا طلاق ثلاثہ واقع ہوں گی؟

Published on: May 10, 2018

جواب # 160905

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:973-160/sn=8/1439



فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر کوئی شخص صریح الفاظ کے ساتھ اپنی بیوی کو طلاق دے تو اس سے بہرحال طلاق واقع ہوجاتی ہے، خواہ نیت طلاق کی کی جائے یا نہ کی جائے اور جتنی کلمہٴ طلاق کو دہرائے گا اتنی طلاق واقع ہوگی، آپ کے دوست نے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ چونکہ صریح ہے اور اسے تین مرتبہ استعمال کیا ہے؛ اس لیے صورتِ مسئولہ میں ان کی بیوی پر تین طلاق مغلظہ واقع ہوگئی بہ شرطے کہ بیوی مدخول بہا یا اس کے ساتھ خلوت صحیحہ ہوچکی ہو، اور بیوی ان پر حرمتِ غلیظہ کے ساتھ حرام ہوگئی، اب ان دونوں کے لیے بلا حلالہٴ شرعی ایک ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا قطعاً جائز نہیں ہے۔



قال اللہ تبارک وتعالی: فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ (البقرة: ۳۲) وفي الفتاوی الہندیہ: وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة․․․لم تحلّ لہ حتی تنکح زوجًا غیرہ نکاحًا صحیحًا ویدخل بہا ثم یطلقہا أو یموت عنہا (ہندیة: ۱/ ۴۷۳، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات