معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 157184

حضرت، نکاح کے دن لڑکی تعویذ لے کر آئی، پھر جھوٹ بولتی ہے۔ تعویذ وغیرہ واپس کرنے کو کہا تو واپس کردیا۔ پھر میکے رہنے گئی اور دوبارہ وہ تعویذ چھپا کر لے آئی۔ اس کے ماں باپ سے بات کیا تو وہ معافی مانگ کر چلے گئے۔ کام وغیرہ بھی صفائی سے نہیں کرتی۔ پکوان بھی نہیں آتا۔ اس کے ماں باپ کہتے ہیں کہ ان کے حساب کا پکاتی ہے، پھر چند دن میکے رہنے گئی تو کہیں اس کا بھائی دعا پڑھانے کے بہانے لے گیا۔ پھر لوٹی تو کچھ آیت لکھے کاغذ لے آئی، اس پر دیور اور نند کے نام بھی ہیں۔ پوچھا تو بتاتی ہے وہ لوگ بہت ٹوکتے ہیں پر ایسا نہیں ہے بلکہ وہ لوگ کام ایسا کرنا اور شوہر کو ایسے خوش رکھنا ہے بول کر علماء کے بیان وغیرہ سنا کر سمجھاتے ہیں۔ کبھی طعنہ وغیرہ دے کر بات نہیں کرتے۔ اب لڑکی شوہر سے خلع مانگ رہی ہے اور وہ شروع دن سے ہی گردن کے دَرد سے تڑپتی رہتی ہے۔ نکاح سے پہلے حجامہ وغیرہ بھی کرا چکی ہے۔ ساس کو بھی جواب دیتی ہے۔ شوہر کی بھی بات نہیں مانتی۔ گھور کر دیکھتی ہے۔ کچھ زنانی بیماری بھی ہے۔ اس کا علاج بھی کرایا گیا۔ اب پتا نہیں شفا ہوئی یا نہیں، کیونکہ جھوٹ بہت بولتی ہے۔ اب اس حال میں کیا کرنا چاہئے؟ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ اس لڑکی کو انفکشن ہو گیا ہے۔ اس لیے شوہر کو اس سے ملنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

Published on: Dec 27, 2017

جواب # 157184

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:350-397/N=4/1439



صورت مسئولہ میں شوہر کو چاہیے کہ وہ اور اس کے گھر والے بیوی پر بہت زیادہ روک ٹوک نہ کریں؛ بلکہ صرف شوہر گاہے گاہے تنہائی میں مناسب انداز میں سمجھادیا کرے ، بہت زیادہ روک ٹوک یا سب کے سامنے کہنا سننا بعض مرتبہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور اصلاح کے بجائے بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور بیوی میں جو بیماریاں ہیں، ان کا مناسب علاج کرائے او ر دعا بھی کرے، إن شاء اللہ ، شوہر جب محبت وہم دردی کا برتاوٴ کرے گا تو بیوی کے مزاج میں تبدیلی آئے گی اور دونوں میں نباہ آسان ہوگا، اور جب تک بیوی کو انفیکشن رہے، شوہر اس سے ملاقات نہ کرے اور جلد از جلد کسی اچھے ڈاکٹر سے اس کا علاج کرالے، اللہ تعالی تمام مسائل حل فرمائیں اور سکون وعافیت کی زندگی عطا فرمائیں۔ اور اگر یہ سب کوششیں کارآمد ثابت نہ ہوں اور بیوی بھی خلع چاہتی ہو تو ایسی صورت میں کسی جھگڑا اور اختلاف کے بغیر خلع کی کاروائی مکمل کرلی جائے۔ قال اللہ تعالی:وإن یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعاً حکیماً۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات