معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 157079

بیوی کو ڈرانے کی نیت اور ناراضگی میں کنایہ الفاظ استعمال کرنا جب یہ بھی نہ پتا ہو کہ کنایہ الفاظ سے کچھ ہو سکتا ہے ۔
ہم میاں بیوی میں کبھی کبھار کسی بات پر بحث ہو جاتی ہے اور اس وقت میں اس کو علیحدگی کی دھمکی دیتا ہوں ڈرانے کے لئے لیکن کوئی صریح لفظ نہیں بولا آج تک۔ مجھے کنا یہ الفاظ کے بارے میں پتا نہیں تھا کہ ان سے بھی کچھ ہو سکتا ہے ۔اس لئے مختلف کنایہ الفاظ اکثر استعمال ہو جاتے -وہ کنایہ الفاظ یہ ہیں ۔ اپنے گھر والوں کو بولو آ کر لے جائیں، جدھر مرضی شادی کریں۔تمھارا سامان بھی لے جائیں۔میں دوسری شادی کروں گا - جب تمہیں گھر لے جائیں گے ادھر میں پیغام بھیج دوں گا وغیرہ وغیرہ جب میں یہ الفاظ بولتا ہوں تو میرے دل میں یہی ہوتا ہے کہ جانے نہیں دوں گا صرف ڈرانا نیت ہوتی ہے ہمارا زیادہ وقت الحمداللہ اچھا گزرتا ہے صرف کچھ اوقات تلخی ہو جاتی ہے اس کے علاوہ بعض دوسرے اوقات میں یہ جملے بولنا۔گھر سے نکل جاو اس کے علاوہ ایک بار یہ ک ہمارا کوء تعلق نہیں (ناراضگی کے اظہار کے لئے صرف) یاد رہے کہ ان اوقات میں میں نے اپنے آپ کو کوء بھی صریح الفاظ بولنے سے اپنے آپ ک قابو میں رکھا۔باقی الفاظ جو بولے وہ بھی ڈرانے اور ناراضگی کے اظہار کے لئے بولے - اگر کنایہ الفاظ سے کچھ ہونے کا پہلے پتا ہوتا تو شاید یہ بھی نہ بولتا۔ برائے مہربانی جواب دیجئے کہ اس حالت میں کیا حکم ہے ؟

Published on: Dec 31, 2017

جواب # 157079

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:389-339/L=4/1439



مذکورہ بالا الفاظ بغیر نیتِ طلاق کہنے سے طلاق واقع نہ ہوئی ،تاہم آئندہ اس طرح کے الفاظ کہنے سے احتراز کریں کیونکہ بہت سے الفاظِ کنایات ایسے ہیں جن سے بلانیت بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات