معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 157028

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو میکے جانے پر طلاق نکالی تھی کہ میری اجازت کے بنا گئی تو طلاق ہے ۔پھر ایک دن ہمارا جھگڑا ہوا میں نے فون پر اس کے ماموں کے بیٹے کو کہا کہ میری طرف سے فارغ ہے چاہے میکے جائے یا جہاں بھی جائے ۔لیکن میں نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے اجازت دینے کی نیت سے کہے ۔آیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

Published on: Jan 2, 2018

جواب # 157028

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:363-364/L=4/1439



آپ کا پہلا جملہ تعلیق طلاق سے متعلق ہے ، یہ جملہ اگر آپ نے بغیر کسی قید کے کبھی بھی میکے جانے کی صورت میں کہا تھا تو میکہ جانے کی صورت میں ایک طلاقِ رجعی بیوی پر واقع ہوجائے گی، جس میں تاوقتِ عدت آپ کو رجعت کا اختیار حاصل ہوگا، اور دوسرا جملہ جو آپ نے بیوی کے ماموں کے بیٹے کو کہا تھا اگر آپ نے اس سے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو اس جملے سے کوئی طلاق بیوی پر واقع نہیں ہوئی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات