معاشرت - طلاق و خلع

india

سوال # 156933

حضرت، ایک عورت کی عمر ۳۴/ سال اور شوہر کی عمر ۳۸/ سال ہے۔ ڈھائی سال قبل شوہر ایک حادثہ کا شکار ہو جانے کی وجہ سے جسم فالج زیادہ ہوگیا ہے۔ بول براز کے ضرورت طبی آلہ کے ذریعہ کرایا جاتا ہے۔ شوہر کے گھر کے مالی اور اخلاقی مدد نہ ملنے کے سبب وہ اپنے والدین کے گھر گذشتہ ایک سال سے رہ رہے ہیں۔ شوہر بیوی کو وظیفہٴ زوجیت ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ بیوی کی عمر ایسی ہے کہ حق زوجیت اس کے لیے بہت اہم ہے۔ اس صورت حال میں بیوی شوہر سے خلع لے کر دوسرے نکاح کی خواہش مند ہے۔ کیا اسلام حق زوجیت اور نان و نفقہ ادا نہ ہونے کی صورت میں اس عورت کو اسلام خلع کی اجازت دیتا ہے؟
جواب جلد از جلد درکار ہے۔

Published on: Dec 25, 2017

جواب # 156933

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:337-271/sn=4/1439



اگر بیوی صبر کرسکے نیز اس کے نان نفقے کا نظم کسی ذریعے سے ہوجائے تو صورتِ مسئولہ میں بہتر یہی ہے کہ بیوی علاحدہ نہ ہو؛ بلکہ اپنے بیمار پریشان حال شوہر کے ساتھ رہے، اس کی خدمت کرے، بیوی کو ان شاء اللہ اس کا بڑا جر ملے گا؛ باقی اگر بیوی کے لیے صبر مشکل ہو یا نان نفقے کا کوئی نظم نہ ہوسکے تو اس کے لیے شوہر سے طلاق لینے یا اس کی رضامندی سے خلع لینے کی گنجائش ہے، شوہر سے بات چیت کرکے طلاق یا خلع حاصل کرلی جائے، اگر شوہر کسی طرح طلاق یا خلع پر آمادہ نہ ہو تو بیوی اپنا معاملہ مقامی محکمہٴ شرعیہ میں پیش کرے وہاں سے بعد تحقیق ”الحیلة الناجزة“ کے مطابق جو فیصلہ ہو اس پر عمل درآمد کیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات