معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 156681

میرا سوال یہ کہ اگر زید نے بکر کو کہا کہ اگر تم نے عمرو کے ساتھ کام کیا تو تمہاری بیوی کو طلاق ہو جائے ...جواب میں بکر نے کہا کہ ٹھیک ہے (اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا.. اب اگر بکرنے عمرو کے ساتھ کام کیا تو اس کی بیوی کو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

Published on: Dec 25, 2017

جواب # 156681

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:245-226/D=4/1439



بکر کا زید کے جواب میں ”ٹھیک ہے“ کہنا اس کی تعلیق کو تسلیم کرنا ہے، اس لیے اگر بکر عمرو کے ساتھ کام کرے گا تو اس کی بیوی کو ایک طلاق رجعی پڑجائے گی۔ قال العلامة الحصکفي: جماعة یتحدثون في مجلس فقال رجل منہم من تکلم بعد ہذا فامرأتہ طالق، ثم تکلم الحالف طلقت امرأتہ وقال العلامة محمد بن عابدین الشامي تحتہ: سکت عما إذا تکلم غیرہ، والظاہر أنہ لا یقع․․․ إلا إذا قال الغیر وأنا کذلک مثلا․․․ الدر المختار مع رد المحتار: ۵/ ۵۲۵، وفي الأشباہ والنظائر: القاعدة الحادیة عشر، السوٴال معاد فيالجواب․ وقال البزارزي․․․ قال رجل: امرأة زید طالق وعبدہ حر وعلیہ المشي إلی بیت اللہ: إن دخل ہذہ الدار، فقال زید: ”نعم“ کان زید حالفا بکلہ․ (الأشباہ: ۱/ ۳۸۰)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات