معاشرت - طلاق و خلع

Greece

سوال # 156401

ایک شخص اگر اپنی بیوی کو ایک طلاق دیتا ہے اور بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے تو نوٹس لکھ دیا کہ میں نے رجوع کر لیا لیکن بیوی کو اس کا علم نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ولی یا گواہوں کو یہ بات اپنے گوہوں کی موجودگی میں کہتاہے اور نوٹس بھی ان کی موجودگی میں لکھتا ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟

Published on: Nov 21, 2017

جواب # 156401

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:120-117/sd=2/1439



مذکورہ شخص نے اگر ایک طلاق دینے کے بعد عدت کے اندر زبانی طور پر یہ کہدیا کہ میں نے رجوع کر لیا یا تحریری طور پر لکھ دیا، تو شرعا رجوع ہوگیا، بیوی کی طرف سے گوا ہ اور ولی کا رجوع کے وقت حاضر رہنا ضروری نہیں ہے ، بس شوہر کا کہنا یا لکھنا کافی ہے ؛ البتہ شوہر کا رجوع پر مطلق دو آدمیوں کو گواہ بنالینا بہتر ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات