معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 155936

حضرت، میری شادی ۷/۱۰/۲۰۱۲ء کو ہوئی تھی، میری بیوی کا نام ثمینہ ہے، تین سال سے وہ اپنے گھر رہ رہی ہے۔ عدالت میں مقدمہ کیا ہوا ہے 498a/323/406/506 کا۔ میری ایک لڑکی ہے اس کا نام فاطمہ ہے، چار سال سے فاطمہ میری بیوی کے ہی پاس ہے، شادی کے پہلے ہی دن اس نے مجھ کو منع کر دیا تھا اپنے پاس آنے سے ، بولی میری شادی میری مرضی کے خلاف ہوئی ہے۔ اس کا زیادہ وقت اپنی امی کے پاس ہی گذرتا ہے، میں بہت بار پنچایت بھی لے کر گیا اور وہ آئی کچھ دن ٹھیک رہی پھر اپنے اسی کام پر کھڑی ہوگئی۔ میرے ساس سسر ہیں وہ بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، میری ماں بہن کے بارے میں غلط بولتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ:
(۱) تو میں اپنی بیوی سے طلاق لینا چاہتا ہوں۔
(۲) اور اپنی لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔
براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Nov 2, 2017

جواب # 155936

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 200-168/M=2/1439



شادی نباہنے کے لیے کی جاتی ہے صورت مسئولہ میں ایک مرتبہ پھر بیوی کو سمجھا کر ساتھ رہنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرلیں، بیوی کے والدین کو بھی چاہئے کہ اپنی لڑکی کو سمجھا کر شوہر کے پاس بھیجنے کی سعی کریں والدین کو شادی سے پہلے ہی لڑکی کی مرضی کو خوب سمجھ لینی چاہئے تھی، اور لڑکی کی مرضی کے خلاف شادی ہوئی تھی تو لڑکی نے نکاح کے وقت کیوں نہیں کہا اور رخصت ہوکر کیوں چلی گئی اور اب ایک بچی بھی پیدا ہوگئی تو کہتی ہے کہ شادی میری مرضی کے خلاف ہوئی ہے۔ بہرحال موافقت کی کوشش کریں اگر تمام تر کوشش و تدبیر کے باوجود لڑکی کسی حال میں ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہو تو اسے ایک طلاق دے کر زوجیت سے الگ کرسکتے ہیں جدائیگی کے بعد بچی نو سال کی عمر تک ماں کے پاس رہنے کی حق دار ہوگی اور خرچہ آپ کے ذمہ ہوگا۔ نو سال کے بعد اسے آپ اپنی تحویل میں لے سکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات