معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 149380

اگر کسی نے مجھے کہا کہ آپ کی بیوی کسی اور کو پسند کرتی ہے اور یہ سن کر میں گہرے دکھ میں کہوں کہ تم جہاں شادی کرسکتی ہو، لیکن طلاق کی نیت سے نہیں کہا تھا، بلکہ نیت صرف یہ تھی کہ مجھے کوئی پراہ نہیں، تو کیا یہ صریح لفظ ہے یا کنایہ ہے؟براہ کرم، جواب دیں کہ تاکہ میں مزید اقدامات کرسکوں۔

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 149380

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 527-491/N=6/1438



(۱، ۲): آپ نے اپنی بیوی سے سوال میں مذکور جو الفاظ کہے ، یعنی: ”تم جہاں چاہو شادی کرسکتی ہو“، اگر آپ قسم کھاکر کہتے ہیں کہ آپ نے یہ الفاظ طلاق (بیوی سے نکاح کا رشتہ ختم کرنے )کی نیت کے بغیر کہے ہیں تو ان الفاظ کی وجہ سے مفتی بہ قول کے مطابق آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛ کیوں کہ اس طرح کے الفاظ، طلاق سے کنایہ ہوتے ہیں، طلاق کے معنی میں صریح نہیں ہوتے؛ اس لیے نیت کے بغیر طلاق واقع نہ ہوگی۔ في شرح الجامع الصغیر لقاضي خان: ولو قال: اذھبي فتزوجي وقال؛ لم أنو الطلاق لا یقع شییٴ ؛ لأن معناہ: إن أمکنک اھ ……ویوٴیدہ ما فی الذخیرة: اذھبي وتزوجي لا یقع إلا بالنیة ، وإن نوی فھي واحدة بائنة وإن نوی الثلاث فثلاث(رد المحتارکتاب الطلاق، آخر باب الکنایات، ۴: ۵۵۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، والقول لہ بیمینہ في عدم النیة الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الکنایات، ۴: ۵۳۳)، قولہ:”بیمینہ“:فالیمین لازمة لہ سواء ادعت الطلاق أم لا حقاً للہ تعالی، ط عن البحر (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات