معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 149014

میرا سوال یہ ہے اگر شوہر بیوی کو جب کہ بیوی شوہر کی دوسری شادی سے ناراض ہو کر میکے جا رہی ہو تو اسے بہت دفعہ یہ کہہ دے کہ "میری طرف سے تم فارغ ہو "جاوَ تو کیا اس طرح طلاق واقع ہو جاتی ہے ،جب کہ شوہر کہے کہ اس کی نیت طلاق کی نہیں تھی اور بیوی کو شک ہو کہ اس کی نیت اس وقت طلاق کی ہی تھی اور اب صرف خاندان کی عزت بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے ، ایسی صورتحال میں کس کی بات پہ اعتبار کیا جائے گا اور کس طرح فیصلہ کیا جائے گا کہ طلاق واقع ہو چکی یا کہ نہیں، برائے مہربانی رہنمائی کریں ہماری۔

Published on: Mar 20, 2017

جواب # 149014

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:  526-504/B=6/1438



”تم فارغ ہو“ کا لفظ صریح طلاق بشرطیکہ غصہ کی حالت میں نہ کہا ہو، کے معنی میں نہیں ہے اس لیے جب تک طلاق کی نیت سے نہ کہے تو اس لفظ سے کوئی طلاق نہ ہوگی، بیوی کا یہ سمجھنا کہ شوہر نے طلاق کی نیت سے یہ لفظ کہا تھا، محض اپنے خاندان کی عزت بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے، صحیح اور معتبر نہیں ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات