معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 148948

ایک شخص اپنی بیوی کوغصہ کی حالت میں بہت مارپیٹ کرتا ہے ساتھ ساتھ تین طلاق بائن دے دیتا ہے تین مرد اور ایک عورت کے سامنے اب وہ چار گواہ محلہ مسجد کمیٹی کے سامنے بار بار اقرار کر رہا ہے لیکن طلاق دینے والا شوہر اب انکار کررہاہے اور بیوی کہتی ہے میں نے کچھ سناہی نہیں۔ اب محلہ والے کیا کریں بڑی مشکل میں پڑگئے ہیں۔ لہذا اب حضرات اس بارے میں شرعی مدد فرمائیں۔

Published on: Mar 15, 2017

جواب # 148948

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:  728-713/L=6/1438



صورت مسئولہ میں جب تک الفاظ طلاق کا بیان نہ ہو اس وقت تک قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ صرف ایک طلاق بائن بیوی پر واقع ہوئی یا تین؟ لیکن اگر واقعی شوہر نے طلاق بائن دی ہے تو گواہان کو چاہئے کہ اس مسئلہ کو مقامی شرعی پنچایت میں لے جائیں۔ شرعی پنچایت کے حضرات گواہان اور زوجین کے بیانات لینے کے بعد معاملہ کو ایک طرف کردیں گے۔



”وإذا شہد شاہدان علی رجل أنہ طلق امرأتہ ثلاثاً وجحد الزوج والمرأة ذلک فرق بینہما؛ لأن المشہود بہ حرمتہا علیہ والحل والحرمة حق اللہ تعالی فیقبل الشہادة علیہ من غیر دعوی“ (مبسوط: ۱/۷۷۲)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات