معاشرت - طلاق و خلع

pakistan

سوال # 148818

ہم نے کسی دوست کے ساتھ ٹریول ایجنسی بنائی اور میرے ساتھی کے یہاں ایک بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے وہ جماعت اہل حدیث سے متعلق، حضرت اس کے ایک بیٹے نے پانچ ماہ پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی تو اب پانچ ماہ بعد وہ آپس میں صلح کر چکے ہیں، لڑکا کہتا ہے کہ میں نے دو طلاقیں دی تھیں، تیسری طلاق میں نے اپنی بھابھی کے کہنے پر سمجھی تھی، وہ مجھے کہتی ہیں آپ پہلے ایک طلاق دیں چکے ہو، کیا شریعت کی نظر میں یہ طلاق ہوگئی؟ پہلے یہ لڑکا سب کو کہتا تھا کہ میں اپنی بیوی کو چھوڑ چکا ہوں، اب وہ کہتا ہے میں نے تیسری طلاق اپنی بھابھی والی سمجھی تھی، ان کے مفتی صاحب نے فتوی دیا ہے کہ آپ اپنی بیوی کو لا سکتے ہیں، کیونکہ اسلام میں ایک عورت کی گواہی نہیں ہوتی، تو کیا یہ طلاق واقع ہوگئی؟ اور ہم اسلامی نقطہٴ نظر سے ان کے ساتھ کاروبار کرسکتے ہیں؟ ان کا بڑا بیٹا ان سے علیحدہ ہو رہا ہے اس بنا پر کہ یہ حرام ہے، طلاق دے کر اب مکر رہے ہیں۔ ہمارے لیے کیا یہ شریعت کے مطابق ہے کہ ہم ان کے ساتھ کاروبار کریں؟

Published on: Feb 23, 2017

جواب # 148818

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 421-327/D=5/1438



تین طلاق کے بعد بیوی قطعی طور پر حرام ہوجاتی ہے بدون حلالہ شرعیہ کے اس سے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔



اگر تین طلاق کے شرعی گواہ یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں موجود ہوں تو پھر گھر کے لوگ شوہر کو مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ مطلقہ بیوی سے ترک تعلق کرے۔ اسی طرح اگر شوہر نے شرعی گواہوں کے سامنے تین طلاق دینے کا اقرار کیا ہو تو بھی یہی حکم ہے یا عورت نے خود اپنے کانوں سے تین طلاق سنا ہو تو پھر بیوی کے لیے جائز نہیں کہ شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم رکھے۔ لہٰذا اس معاملہ کو کسی معتبر دارالافتاء میں لے جاکر حل کریں کہ تین طلاق کا وقوع ہوا یا نہیں؟



جب تک حرام قطعی میں مبتلا ہونا ثابت نہ ہو اس کے ساتھ کاروبار کرنے کی ممانعت کا قطعی حکم نہیں لگایا جاسکتا، البتہ اگر آپ کی تحقیق اور معلومات کی حد تک وہ شخص تین طلاق دینے کے باوجود بیوی کو اپنے پاس رکھ کر فعل حرام کا مرتکب ہے تو پھر آپ اس کے ساتھ کاروبار کرنے سے احتراز کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات