معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 148474

میرا ایک دوست ہے اس نے بغیرکسی کو اطلاع دیئے شادی کرلی، دونوں مسلم ہیں اور ایک ہی قبیلہ کے ہیں، اور دونوں طالب علم ہیں، اور دونوں اپنے اپنے گھر رہتے ہیں، صرف کالج میں ملتے ہیں، ایک دن دونوں میں صحبت کی خواہش ہوئی تو پھر لڑکے نے اس کے ساتھ ہمبستری کی اور پھر دونوں ایک مہینہ میں دو بار ہمبستری کرنے لگے، ان کو عادت سی ہوگئی، اب وہ لڑکی اس کو چھوڑنا چاہتی ہے کیوں کہ اس کے والدین اس کی شادی کہیں اور کرنا چاہتے ہیں، اب وہ لڑکی طلاق مانگ رہی ہے، اگر میرے دوست نے طلاق دیدی تو کیا اس لڑکی کو عدت گذارنی ہوگی یا نہیں؟ جب کہ ہمبستری کے وقت انہوں نے کنڈوم استعمال کیا تھا۔ اور عدت کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کردیں، کرم ہوگا۔

Published on: Feb 13, 2017

جواب # 148474

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 571-550/M=5/1438



صورت مسئولہ میں اگر لڑکی کو طلاق ہوجاتی ہے تو اس کو عدت گزارنی ہوگی، اور حمل نہیں ٹھہرا ہے تو عدت تین حیض کے ذریعہ پوری ہوگی، طلاق بائن کی عدت میں لڑکی زیب وزینت اختیار نہ کرے اور شرعی عذر کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلے اور غیر محارم سے شرعی پردہ کرے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات