معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 148238

اگر بیوی اپنی ماں کے کہنے پر شوہر کی اجازت و مرضی کے بغیر کسی شرعی عذر کے چھپ کر (مانع حمل کی دوائیں) ضبط ولادت کی گولیاں اور انجکشن استعمال کرے تو کیا:۔
(۱) مذکورہ صورت میں کیا بیوی کو اس کی ماں سے ملنے شرعی طور پر روکا جا سکتا ہے؟
(۲) کیا مذکورہ صورت میں عورت کی تادیب یا مارا جاسکتا ہے؟
(۳) کیا بیوی کے باز نہ آنے پر طلاق دی جاسکتی ہے؟
(۴) تا دیب کی وضاحت بھی کیجئے گا۔

Published on: Feb 6, 2017

جواب # 148238

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 300-304/Sd=5/1438



(۱) شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کے لیے اپنی ماں کے کہنے پر چھپ کر مانع حمل دوا یا انجکشن لگوانا صحیح نہیں ہے؛ اگر آئندہ بھی اس کا اندیشہ ہو تو شوہر اپنے حق کی وجہ سے بیوی کو اگرچہ اس کی ماں سے ملنے سے شرعا روک سکتا ہے؛ لیکن بہتر یہ ہے کہ بیوی کو تنبیہ کردے اور ایسی کوئی تدبیر کرلے کہ بیوی کی اپنی والدہ سے ملاقات بھی ہوجائے اور شوہر کا حق بھی محفوظ رہے، اس لیے کہ بیوی کو والدہ سے ملنے سے روکنا یہ بجائے خود آپسی رشتہ کو متأثر کرنے کا سبب ہے، اس سے الفت ومحبت میں فرق آسکتا ہے۔ قال ابن عابدین: ولذا ینبغي تحریرہ أن یکون لہ منعہا عن کل عمل یوٴدي إلی تنقیص حقہ أو ضررہ أو إلی خروجہا من بیتہ ․․․ (رد المحتار: ۳/۶۰۲، ۶۰۳، باب النفقة)



(۲) جی ہاں! تادیب کی جاسکتی ہے۔



(۳) جی ہاں طلاق دینے کی بھی گنجائش ہے۔



(۴) تادیب کا مفہوم عام ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے نرمی کے ساتھ سمجھایا جائے، ورنہ بستر الگ کردیاجائے، اگر اس سے بھی باز نہ آئے، تو ہلکی مار کی بھی گنجائش ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات