معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 148124

میں اور میری بیوی آپس میں مذاق میں بات کر رہے تھے، مذاق مذاق میں اس نے کہا کہ ”تم مجھے چھوڑ دو “ میں نے کہا میں نے تمہیں چھوڑ دیا، کیا ایسا کہنے پر ہمارے نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟ اس سلسلے میں آپ رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 29, 2017

جواب # 148124

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 477-378/H=4/1438



”میں نے تمھیں چھوڑدیا“ یہ جملہ بمنزلہٴ طلاق صریح کے ہے اور انشاء طلاق پر مشتمل جملہ خواہ مذاق میں شوہر بول دے تب بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، پس صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، عدتم ختم ہونے سے قبل اکر رجعت کرلیں گے تو نکاح علی حالہ باقی رہے گا اور عدت میں رجعت نہ کی تو طلاق رجعی بعد عدت گذرنے کے بائنہ ہوجائے گی اور رجعت کا حق ختم ہوجائے گا البتہ بتراضئ طرفین نکاح جدید بغیر حلالہ درست ہوجائے گا اور رجعت یا تجدید نکاح کی صورت میں آئندہ آپ کو صرف دو طلاق کا حق باقی رہے گا یعنی اگر کبھی دو طلاق دیدی تو بیوی حرام ہوجائے گی، آئندہ مذاق میں بھی اس قسم کا لفظ زبان سے ہرگز نہ نکالیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات