معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 147616

اسلام و علیکم۔ حضرت معاملہ ایسا ہے کہ میری شادی تین ماہ قبل ہوئی۔ میں دبئی میں ملازمت کرتا ہوں۔ میری والدہ کی صحت خراب تھی لہذا ایمرجنسی میں نکاح ہوا۔ والدہ نے اور میں مل کے فیصلہ کیا کے شادی اس لڑکی سے کی جائے جس کی شادی نہیں ہو رہی تھی۔ والدہ نے اپنی بھتیجی سے میری شادی صرف نیکی کی غرض سے کروائی اور میرا مقصد بھی یہی تھا۔ شادی کے بعد میں نے صرف 12 دن لڑکی کے ساتھ گزارے کیونکہ میری چھٹی ختم ہو گئی تھی۔ 12 دنوں میں ہی میں نے نوٹس کیا کہ میری بیوی کا لہجہ بہت سخت اور بدتمیزی والا ہے اور پھر میں نے اسے سمجھنا شروع کیا لیکن اس کی بدتمیزی میرے اور میری والدہ اور دیگر گھر کے لوگوں کے ساتھ ویسا ہی رہا۔ لاکھ سمجھانے پر بھی اسے فرق نہ پڑا تو میں نے اسے دھمکی دینا شروع کی اگر تم ٹھیک نہ ہوئی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ میں نے 12 دنوں میں بے حساب پیار اور عزت دی اسے جو کے میرا فرض تھا۔ پہلا سوال کیا ایسے دھمکیاں دینے سے نکاح پر کوئی فرق پڑتا ہے؟ جبکہ میرے دل میں ہمیشہ یہی خیال ہوتا تھا کہ میں طلاق کبھی نہیں دوں گا۔ پھر معاملات اور خراب ہوئے یہاں تک کے میری بیوی نے میری لئے انتہائی گندے الفاظ بھی استعمال کیے لیکن میں نے گالی کا جواب گالی سے نہیں دیا۔ پھر میری والدہ نے مجھے کہا کہ بیٹا اسے چھوڑ دے۔ میں نے ماں کی بات کبھی نہیں ٹالی لیکن اس بات پر میں نے نہ بول دی اور کہا کہ میں آپ کے کہنے پر طلاق نہیں دوں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ اگر کہیں بھی کوئی غلطی ہوئی تو اس پر آپ کی پکڑ ہو۔ اس دوران بیوی کی بدتمیزی جاری رہی اور میں نے تنگ آ کر خود ہی فیصلہ کرلیا کہ میں چھوڑ دوں گا لیکن شرعی طریقے سے طلاق دوں گا ایک ایک کر کے۔ دوسرا سوال میں نے سنجیدہ ہو کے گھر کے 3 یا4 لوگوں کو کہا کے میں اسے چھوڑ دوں گا۔ کیا اس طرح نکاح پر کوئی فرق پڑتا ہے۔ اور تیسرا سوال۔ میں نے ایک دن اپنی والدہ کو کہا کہ میری طرف سے پہلی طلاق کا پیغام بھیج دیں۔ کیا پیغام بھیجنے سے طلاق ہوئی؟ اور پلیز میری رہنمائی فرمائیں میں عجیب کشمکش میں ہوں۔ والدہ کو بھی بول دیا ہے کہ میں چھوڑ دوں گا اور وہ بھی یہی چاہتی ہیں۔ بیوی ہے کہ اسکا غرور اور بدتمیزی ختم نہیں ہو رہی اور پھر بھی میں طلاق دینے سے ڈر رہا ہوں صرف اور صرف خوف خدا میں۔اب بات پورے خاندان میں پھیل چکی ہے۔ میری سمجھ سے باہر ہے میں کیا کروں۔ پلیز رہنمائی فرمائیں

Published on: Jan 15, 2017

جواب # 147616

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 409-384/M=4/1438



(۱) (۲) ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔



(۳) اگر آپ کے کہنے پر والدہ نے ایک طلاق کا پیغام صریح الفاظ میں لکھ کر آپ کی بیوی کو بھیج دی ہے تو اس سے ایک طلاق رجعی پڑگئی اس میں آپ عدت کے دوران رجوع کرسکتے ہیں اور عدت گذرگئی ہو اور آپ نے رجوع نہ کیا ہو تو اب تراضی طرفین سے نکاح جدید ہوسکتا ہے اوراگر طلاق کے الفاظ کچھ اور لکھے گئے ہوں تو ان کی وضاحت فرماکر سوال کریں۔ اگر بیوی زوجیت میں برقرار ہے تو اسے سمجھائیں کہ اس طرح بدتمیزی اور غرور سے نباہ دشوار ہوگا، بہتر ہے کہ بیوی کے والدین یا بھائی وغیرہ کو بٹھاکر اور دو چار لوگ معاملہ فہم حضرات مل بیٹھ کر بیوی کو سمجھانے کی کوشش کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات