معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 147599

میری شادی ۱۵/۷/۲۰۱۱ء کو ہوئی تھی، میری اب دو لڑکیاں ہیں ایک ڈھائی سال کی اور دوسری ایک سال کی، میری عورت کے کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں مجھے اب پتا چلا ہے، اب میں طلاق دینا چاہتا ہوں مگر مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں وہ لوگ کیس نہ کردیں، میرے گھر کی مالی حالت بہت خراب ہے ، اگر وہ عورت میرے گھر میں رہی تو میری پوری نسل ہی خراب ہو جائے گی، میری اس سے کبھی نہیں بنی۔
برائے مہربانی کوئی حل بتائیں، میں کیا کروں؟

Published on: Jan 31, 2017

جواب # 147599

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 369-382/Sn=5/1438



صورت مسئولہ میں اگر آپ طلاق دینا چاہتے ہیں تو طلاق دے سکتے ہیں، شرعاً آپ پر کوئی گناہ نہ ہوگا؛ لیکن آپ کا اندیشہ بھی بہ جا ہے، اس خطرے سے بچنے کے لیے یا تو آپ بیوی یا اس کے گھر والوں کے ساتھ بات چیت کے ساتھ طلاق دیں اور ان سے تحریر بھی لیں کہ وہ اس پر راضی ہیں اور کوئی عدالتی کارروائی نہیں کریں گے، اگر یہ نہ ہوسکے تو کسی اچھے وکیل سے مشورہ کریں اور ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی طلاق دیں؛ البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ ابتداءً صرف ایک طلاق دی جائے، تین طلاق ہرگز نہ دی جائے، ایک ساتھ تین طلاق دینا ناجائز اور گناہ ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات