معاشرت - طلاق و خلع

Pakistan

سوال # 146938

اگر کوئی دل میں یا خیال میں وسوسہ آنے سے دل میں ہی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے جب کہ منہ سے نہیں کہتا نہ ہی اسے لکھتا ہے، کیا طلاق ہو جائے گی؟

Published on: Dec 19, 2016

جواب # 146938

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 293-242/B=3/1438



 



زبان سے تلفظ کئے بغیر محض دل دل میں طلاق دینے یا طلاق کا دل میں وسوسہ آنے سے کسی بھی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ ورکنہ لفظ مخصوص وہو ماجعل دلالة علی معنی الطلاق من صریح أو کنایة ․․․․․ وأراد اللفظ ولو حکماً لیدخل الکتابة المستبینة: الدر مع الرد: ۴/۴۳۱، زکریا دیوبند۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات