معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 146633

میرے بھائی نے غصہ میں اپنی بیوی کو یہ کہا کہ بھاگ جاوٴ اب گھر دوبارہ مت آنا۔ کیا طلاق ہو گئی جب کہ ان کی نیت بالکل طلاق کی نہیں تھی۔

Published on: Jan 8, 2017

جواب # 146633

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 228-200/N=4/1438



 



اگر آپ کا بھائی قسم کے ساتھ کہتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی سے سوال میں مذکور الفاظ ، یعنی: ”بھاگ جاوٴ، اب گھر دوبارہ مت آنا“ طلاق کی نیت سے نہیں کہے ہیں تو ان الفاظ کی وجہ سے اس کی بیوی پر کسی طلاق کا حکم نہ ہوگا۔ والقول لہ بیمینہ في عدم النیة …………وفی الغضب توقف الأولان إن نوی وقع وإلا لا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الکنایات، ۴: ۵۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ، قولہ:”بیمینہ“:فالیمین لازمة لہ سواء ادعت الطلاق أم لا حقاً للہ تعالی، ط عن البحر (رد المحتار) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات