معاشرت - طلاق و خلع

Oman

سوال # 146596

میں اکثر اپنی بیوی کو کہا کرتا تھا کہ؛ ” اپنی گھر چلی جا“،” اپنے گھر جاکے مجھ سے باضابطہ طورپر خلع لے لو” ،” اپنی امی ابو سے بات کرکے مجھ سے خلع لے لو“۔وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے اور میں بھی اس سے بہت زیادہ محبت کرتاہوں، لیکن کبھی کبھار وہ کچھ مسائل میں زیادہ سخت ہوجاتی ہے جس کی ہمارے درمیان جھگڑے ہوجاتے ہیں، اس لیے وہ کبھی نہیں جھوکتی ہے، مجھے بھی نہیں چھوڑتی ہے، لہذا ، اس کو خاموش کرنے کے لیے یہ سب میرے آخرے جملے ہوتے ہیں۔ جواب میں وہ کہتی ہے کہ وہ کبھی اپنے والدین کے گھر نہیں جائے گی، یا وہ تو مر جائے گی یا میں اس کو طلاق دیدوں؟اس لیے میں بار بار دہراتا ہوں کہ ؛ ”میں تم کو طلاق نہیں دو ں گا“،”بس تم اپنے گھر چلی جاؤ“۔
براہ کرم، بتائیں کہ کیا ہم پر کوئی عدت ہے؟اگر ہاں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ہمارے پاس کتنے اختیار ات (آپشن ) ہیں؟

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 146596

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 314-271/H=4/1438



 



”اپنے گھر چلی جا“ ”مجھ سے باضابطہ طور پر خلع لے لو“ ان جیسے جملے اگر طلاق کی نیت سے نہیں بولے تو کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہ ہوئی اور جب طلاق واقع نہ ہوئی تو عدت کا بھی حکم نہیں ہے الغرض اگر اب تک کسی قسم کی طلاق بیوی کو نہیں دی تو آپس میں مل جل کر حسن معاشرت سے گذر بسر کرتے رہیں، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرتے رہیں، آئندہ دونوں ہی اپنی اپنی زبان کو نامناسب بات کہنے سے روکتے رہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں، اتباعِ سنت اور فکر آخرت کو نصب العین بنائے رکھیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات