معاشرت - طلاق و خلع

India

سوال # 1193

اسلام میں طلاق کا کیا حکم ہے؟ اور کیا ایک ہی بار میں تین طلاق دینے سے تین طلاق واقع ہوجاتی ہے؟اور اگر نہیں ہوتی تو کتنی ہوتی ہے؟ اور اس کی عدت کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم، قرآن و حدیث کی مدد سے جواب دیں۔

Published on: Jul 24, 2007

جواب # 1193

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  426/م = 424/م)


 


جب زوجین میں اس درجہ نااتفاقی ہوجائے کہ نباہ کی کوئی صورت نہ رہے تو مرد کے لیے شرعاً اس کی اجازت ہے کہ عورت کو طلاق دیدے، یعنی اصلاح حال کی غرض سے طلاق دیدینا جائز اور مباح ہے اور اس کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ایسے طہر (پاکی کی حالت) میں جس میں مرد نے عورت سے قربت نہ کی ہو ایک طلاق دے کر چھوڑدے۔ اور اگر ایک ہی بار میں تین طلاق دیدی تو تینوں طلاق واقع ہوجاتی ہے لیکن طلاق کا یہ طریقہ پسندیدہ نہیں۔ اور حائضہ عورت کی عدت تین حیض کا گذرنا ہے، وطلاق البدعة أن یطلقھا ثلثاً بکلمة واحدة أو ثلثاً في طھر واحد فإذا فعل ذلک وقع الطلاق وکان عاصیا (ھدایہ: ج۲، ص۲۵۵)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات