عبادات - طہارت

Saudi Arabia

سوال # 472

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کیا کپڑوں کے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے؟


 


(۲) احناف کے علاوہ کسی مسلک میں اس کا جواز ہے؟


 


(۳) ایسے امام کے پیچھے جو کپڑوں کے موزوں پر مسح کرنے کا عادی ہو،اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟


 


(۴) کیا پچھلی نمازوں کو دہرانا ضروری ہے؟

Published on: May 26, 2007

جواب # 472

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 326/ن=319/ن)


 


(1)  امت کے تمام مستند فقہاء و مجتہدین کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ باریک موزے جن سے پانی چھن جاتا ہو، یا وہ کسی چیز سے باندھے بغیر پنڈلی پر کھڑے نہ رہتے ہوں یا ان میں میل دو میل مسلسل چلنا ممکن نہ ہو، ان پر مسح جائز نہیں ہے، اور چونکہ ہمارے زمانہ میں جو سوتی، اونی اور نائیلون کے موزے رائج ہیں وہ باریک ہوتے ہیں، ان میں مذکورہ اوصاف نہیں پائے جاتے، اس لیے ان پر مسح کسی حال میں جائز نہیں ہے: ولا یجوز المسح علی الجورب الرقیق من غزل أو شعر بلا خلاف ولو کان ثخینا یمشي معہ فرسخًا فصاعدا فعلی الخلاف (البحر الرائق: 1/192، ط دیوبند) فإن کانا رقیقین یشفّان الماء لا یجوز المسح علیھما بالإجماع (بدائع: 1/83/ ط زکریا دیوبند) البتہ اگر کپڑا اتنا موٹا ہو جس میں مذکورہ اوصاف ہوں تو اس کے موزوں پر مسح جائز ہوگا۔ لاشک أن المسح علی الخف علی خلاف القیاس فلا یصح إلحاق غیرہ بہ إلا إذا کان بطریق الدّلالة وھو أن یکون في معناہ ومعناہ الساتر لمحل الفرض الذي ھو بعدد متابعة المشي فیہ في السفر وغیرہ (فتح القدیر: 1/109) وأما المسح علی الجوربین فإن کانا مجلدین أو منعلین یجزیہ بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم یکونا مجلدین ولا منعلین فإن کانا رقیقین یشفان الماء لا یجوز المسح علیھما بالإجماع وإن کانا ثخینین لا یجوز عند أبي حنیفة وعند أبي یوسف و محمد یجوز وروي عن أبي حنیفة أنہ رجع إلی قولھما في آخر عمرہ (بدائع: 1/83، ط زکریا دیوبند)


 


(2)  اس زمانہ کے سوتی، اونی اور نائیلون کے موزوں پر کسی بھی مجتہد کے مسلک میں مسح جائز نہیں ہے اور ایسے موزوں پر مسح کرنے والے شخص کا وضوء کسی بھی مسلک (حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی وغیرہ) میں صحیح نہیں ہے۔


 


(3)  ایسے موزوں پر مسح کرنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ہے، ان پر مسح کرکے نہ خود امام کی نماز درست ہوگی اور نہ اس کی اقتداء میں پڑھنے والے مقتدیوں کی۔


 


(4)    جی ہاں! ایسے امام کی اقتداء میں پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ ضروری ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات