عبادات - طہارت

India

سوال # 174633

فرض غسل میں نرم ہڈی تک پانی پہنچانا فرض ہے یا سنت؟ دارالعلوم کے ایک فتوے میں لکھا ہے کہ راجح قول کے مطابق ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا راجح قول کے مطابق سنت ہے، اور دیگر دارالعلوم کے فتاوی میں فرض لکھا ہے، نیز دیگر کتب فقہ میں بھی فرض لکھا ہے، اسلئے تشویش ہوئی براہ کرم اس مسئلہ پر روشنی ڈالنے کی درخواست ہے ۔

Published on: Nov 14, 2019

جواب # 174633

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 256-193/D=03/1441



غسل میں ناک کے اندر یعنی نرم حصے تک جہاں گندگی رہتی ہے پانی پہونچانا فرض ہے، جن فتاوی میں فرض لکھا ہے وہی درست ہے اور جس میں سنت لکھا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔



الاستنشاق اصطلاحاً: ایصال الماء الی المارن یعنی ناک کے اندر نرم ہڈی تک پانی پہونچانا۔ اور لغةً من النشق وہو جذب الماء ونحوہبریح الانف الی داخلہ(بحر) یعنی ناک کی اندرونی ہوا کے ذریعہ پانی کھنچنا باعتبار لغت کے نشق کا مفہوم ہے۔ حد الاستنشاق ان یصل الماء الی المارن کذا فی الخلاصة (عالمگیری: ۱/۵۷)



قولہ المارن ما لان من الانف (قاموس) استنشاق کی حد یہ ہے کہ ناک کے نرم ہڈی تک پانی کا پہونچانا۔



قال فی الدر: فرض الغسل غسل کل فمہ وانفہحتی ماتحت الدرن (الدر مع الرد: ۱/۲۸۵)



غسل میں ناک کے اندر نرم حصہ تک جہاں گندگی رہتی ہے پانی پہونچانا فرض ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات