عبادات - طہارت

India

سوال # 168268

اگر کسی کے اوپر غسل فرض تھا، اور وہ فجر کے لیے لیٹ اٹھا تو متقدیوں سے شرم کی وجہ سے غسل نہ کیا اور اذان اور نماز پڑھادی تو کیا وہ کافر ہوگیا؟اور اس کی ساری نیکیاں برباد ہوگئیں؟اور اب کیا اس کے لیے ان سب مقتدیوں کو بتانا ضروری ہے؟ یا وہ ان کی طرف سے قضا کرسکتاہے اور اللہ سے توبہ کرسکتاہے؟

Published on: Feb 10, 2019

جواب # 168268

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:558-497/L=6/1440



جنابت کی حالت میں نماز پڑھانا جائز نہیں سخت گناہ کا کام ہے تاہم اس کی وجہ سے اس شخص پر کفر کا حکم عائد نہ ہوگا ،اس شحص کو چاہیے کہ توبہ واستغفار کرے، اور مقتدیوں کو یہ بتادے کہ فلاں دن کی فجر کی نماز درست نہیں ہوئی تھی ؛اس لیے آپ حضرات اس دن کی فجر کی نماز دوبارہ پڑھ لیں،زید کا ازخود ان کی طرف سے قضا کرلینا کافی نہ ہوگا ۔



 قلت: وبہ ظہر أن تعمد الصلاة بلا طہر غیر مکفر کصلاتہ لغیر القبلة أو مع ثوب نجس،وہو ظاہر المذہب کما فی الخانیة، وفی سیر الوہبانیة:



وفی کفر من صلی بغیر طہارة ... مع العمد خلف فی الروایات یسطر(الدرالمختار)



 (قولہ: کما فی الخانیة) حیث قال بعد ذکرہ الخلاف فی مسألة الصلاة بلا طہارة وأن الإکفار روایة النوادر. وفی ظاہر الروایة لا یکون کفرا، وإنما اختلفوا إذا صلی لا علی وجہ الاستخفاف بالدین، فإن کان وجہ الاستخفاف ینبغی أن یکون کفرا عند الکل. اہ(الدر المختار مع رد المحتار:۱/۱۸۵۔۱۸۶،ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات