عبادات - طہارت

India

سوال # 167265

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء شرع متین مسئلہ ذیل میں زید نے ایک کرسی پر ہاتھ لگایا جس میں ٹچ وڈ (لکڑی کی پالش) لگا ہوا تھا، وہ زید کے ہاتھ میں لگ گیا، زید نے صابن سے ہاتھ دھل لیا، پھر عصر کی نماز کے وقت وضو کر کے نماز پڑھائی، نماز کے بعد ہاتھ پر نظر پڑی تو اس کی لکیر کے اندر باریک سا ٹچ وڈ کا داغ لگا ہوا تھا، جو ناخون سے رگڑنے پر فورا چھوٹ گیا، اب زید کشمکش میں ہے کہ پانی کھال تک پہنچا یا نہیں؟ کیا سارے مقتدیان کو نماز دہرانی ہوگی؟ کیا حکم ہے ؟
برائے کرم رہنماء فرمائیں۔ اللہ تعالٰی آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے ۔

Published on: Jan 13, 2019

جواب # 167265

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:350-341/N=5/1440



لکڑی کی پالش عام طور پر تہہ دار ہوتی ہے اور پالش کے نیچے پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہوتی ہے؛ اس لیے اگر نماز کے بعد آپ کے کسی ہاتھ کی لکیر کے اندر ٹچ وڈ کا داغ تھا، جس کے نیچے پانی نہیں پہنچا تو آپ کا نہ وضو ہوا اور نہ نماز۔ اور جب آپ کی نماز نہیں ہوئی تو جن لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی، ان کی بھی نماز نہیں ہوئی؛ لہٰذا آپ بھی نماز کا اعادہ کریں اور آپ کے مقتدی بھی (فتاوی محمودیہ، ۵: ۴۱، جواب سوال: ۱۷۶۷، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل، احسن الفتاوی، ۲: ۲۰، مطبوعہ: ایچ، ایم سعید کراچی، آپ کے مسائل اور ان کا حل جدید تخریج شدہ، ۳: ۹۵، ۹۶، مطبوعہ: کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)۔



في فتاوی ماوراء النھر: إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفرہ طین یابس أو رطب لم یجز (الفتاوی الھندیة، کتاب الطھارة، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول في فرائض الوضوء، ۱: ۴، ط: المطبعة الکبری الأمیریة،بولاق، مصر)، ولو کان علیہ جلد سمک أو خبز ممضوغ قد جف فتوضأ ولم یصل إلی ماتحتہ لم یجز؛ لأن التحرز عنہ ممکن کذا في المحیط (المصدر السابق، ص: ۵)، وانظر الدر المختار ورد المحتار (کتاب الطھارة، ۱: ۲۸۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند) أیضاً۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات