عبادات - طہارت

New Zealand

سوال # 167163

کیا اصل ہے جرابوں پر مسح کرنے کے جواز پر اور اس کے تین شرائط کیا ہیں یعنی جواز کے شرائط کہاں سے اخذ ہوتے ہیں کیا ہیں مکمل اور مفصل بیان فرمائیں اور تطبیق شرائط اور مآخذ کے مابین فرمائیں۔

Published on: Nov 15, 2018

جواب # 167163

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 177-265/H=3/1440



جورب اگر ثخین ہوں، یعنی اتنے موٹے ہوں کہ پانی چھن کر اندر نہ جاسکے، اور اپنی ضخامت کی وجہ سے پنڈلی پر باندھے بغیر رک جائیں، نیز ان کو پہن کر ایک فرسخ یعنی تقریباً ساڑھے پانچ کلومیٹر چلنا ممکن ہو، ایسے ثخین موزے پر مسح جائز ہے، خواہ وہ اونی ہوں یا سوتی، لیکن اگر جورب ثخین نہ ہوں، تو اس میں مسح صرف اسی وقت جائز ہے جب کہ اس کے اوپر اور نیچے چمڑا چڑھا ہوا ہو، یعنی وہ مجلد ہوں۔



قال ابن نجیم: والثخین أن یقوم علی الساق من غیر شدّ ، ولایسقط ولا یشف ۔ (البحر الرائق: ۱/۳۱۷، ط: زکریا دیوبند ) وفي الخلاصة إن کان الجورب من الشعر فالصحیح أنہ لو کان صلبا مستمسکا یمشي معہ فرسخا أو فراسخ علی ہذا الخلاف انتہی فہذا الذي ینبغي یعوّل علیہ (غنیة المستملی، ص: ۱۰۵، ط: دارالکتاب دیوبند) قال الحصکفی أو جوربیہ الثخینین بحیث یمشي فرسخاً ، ویثبت علی الساق ، ولایری ماتحتہ ولا یشف إلا أن ینفذ إلی الخف قدر الفرض (الدر المختار: ۱/۴۵۲) باقی ماخذ اور تطبیق شرائط کی تفصیلی بحث اگر دیکھنی ہو ، تو حضرت مفتی شفیع صاحب دیویندی رحمہ اللہ کا رسالہ ”نیل المآرب فی المسح علی الجواب“ دیکھیں جو جواہر الفقہ جلد دوم میں ملحق ہے، یا حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب زید مجدہ کی فقہی مقالات جلد دوم دیکھیں، یا مفتی مصعب صاحب (معین مفتی دارالعلوم دیوبند) کی کتاب ”المسح علی الخفین “ دیکھیں، ان شاء اللہ تشفی ہو جائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات