عبادات - طہارت

India

سوال # 165642

آدھی رات کو غسل کرنے کے حوالے سے میرا سوال ہے۔ در اصل میں گذشتہ چھ مہینے سے روزانہ تہجد پڑھتا ہوں ، میری چونکہ شادی ہوچکی ہے، اس لیے کبھی کبھار بیوی کے ساتھ مصروف ہوجاتاہوں ،اس لیے یقین کے لیے میں نماز پڑھنے سے پہلے غسل کرلیتاہوں، لیکن گذشتہ ہفتہ میری طبیعت اچھی نہیں تھی، مگر میں نے تہجد اور فجر کی نمازپڑھی اور قرآن کی تلاوت کی ۔ایک دن میں نے مباشرت کرلی ، مگر چونکہ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، اس لیے غسل نہیں کرسکا اورصرف وضو کرکے نماز پڑھ لی۔لہذا، میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوجائے اور میں تہجد چھوڑنا نہ چاہوں تو کیا میں غسل کئے بغیر تہجد پڑھ سکتاہوں؟اگر چہ اس طرح مسئلہ عام طورپر پیش نہیں آتاہے ، مگر جب کوئی بہت زیادہ بیمار ہو اور آدھی رات کو غسل نہ کرسکے تو کیا حکم ہوگا؟ جزاک اللہ

Published on: Oct 23, 2018

جواب # 165642

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 62-32/SN=2/1440



اگر کسی کی طبیعت سخت خراب ہو کہ (مثلاً) ڈاکٹر نے ٹھنڈا پانی استعمال کرنے سے منع کر دیا ہو اور گرم پانی کا نظم بھی نہ ہو سکتا ہو تب تو غسل کے بجائے تیمم کرکے نماز پڑھنے کی گنجائش ہوتی ہے؛ لیکن سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی حالت ایسی نہ تھی؛ اس لئے صورت مسئولہ میں آپ کے لئے مباشرت کے بعد محض وضو کرکے نماز پڑھنا جائز نہ تھا، اگر کبھی آئندہ ایسی صورت حال پیدا ہو جائے اور آدھی رات کو غسل کی کوئی صورت نہ بن سکے، نتیجةً آپ تہجد کی نماز ترک کردیں تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ البتہ غسل کرکے فجر کی نماز ضرور پڑھ لیا کریں، فجر کی نماز ترک کرنا بہرحال جائز نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات