عبادات - طہارت

India

سوال # 165544

عرض یہ ہے کہ انسان کے کسی اعضا سے اگر کوئی دم خون ظاہر ہوجاے اوروہ بہا نہ ہو پھر وہ شخص اس کو چلو بھر پانی سے دھوے تو کیا وہ پانی ناپاک ہوگا اگر ناپاک ہوا پھر وہ کپڑوں کو لگا تو کیا اس سے یا اس کی چھیٹوسے کپڑا ناپاک ہوگا یا نہیں نیز اگر ناپاک ہوا تو نجاست خفیفہ ہے یا غلظہ ہوگا نیز وہ کتنی بار ہونے سے پاک ہوگا؟ 2 )اگر کوئی شخص بال اکھاڑ ے اس کی پاکی ناپاکی کاکیا حکم ہے جبکہ خون یا پیپ ظاہر نہ ہو یا ظاہر ہوجاے نیز وہ نجاست غلیظہ ہے یا خفیفہ؟

Published on: Nov 1, 2018

جواب # 165544

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 96-163/B=2/1440



(۱) اگر اتنی مقدار میں خون نکلا جو اپنی جگہ سے بہ گیا ہو تو اس کو چلّو بھر پانی سے دھونے میں وہ پانی ناپاک ہوگا۔ جہاں چھیٹیں پہونچی ہیں وہ بھی ناپاک ہوگا۔ اگر ایک روپیہ کے برابر یا اس سے کم ہے تو نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اور اگر ایک روپیہ سے زیادہ مقدار میں ہے تو پھر زیادہ پانی سے تین دفعہ دھوئے بغیر پاک نہ ہوگا۔



(۲) اگر کوئی بال اکھاڑے اور بال کی جڑ سے رطوبت نکلی تو وہ بھی ناپاک ہے اس کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر خون سے متعلق لکھا گیا ۔ خون اور رطوبت دونوں نجاست غلیظہ ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات