عبادات - طہارت

India

سوال # 165536

(۱) وضو کرتے وقت اگر ہم ایک جگہ اپنا ہاتھ اور چہرہ ھولتے ہیں اور جب دوسری جگہ پہنچتے ہیں پیر دھونے کے لیے تو ہمارے ہاتھ اور چہرہ کا پانی سوکھ جاتاہے ۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرہ دھونے کے بعد میں جان بوجھ کر تولیہ سے ہاتھ اور چہرے کا پانی پوچھ لیتاہوں اور پھر میں دوسری جگہ پیر دھونے جاتاہوں۔
(۳) تیسری بات یہ ہے کہ میں ہاتھ اور چہرہ دھولیتاہوں اور پیر وں کو دھونے کے بجائے میں ہاتھوں کو تر کرلیتاہوں اور پھر پیروں پر ہاتھوں کو اس طرح پھیرتاہوں کہ پیر مکمل طورپر گیلے ہوجاتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ کیا ان تینوں صورتوں میں وضو درست ہوا ہے یا نہیں؟
براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Oct 23, 2018

جواب # 165536

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:67-76/sd=2/1440



 (۱-۲)پے در پے وضوکرنا سنت ہے ، یعنی : جس عمل کے بعد دوسرا عمل ہے ، دونوں کے درمیان لمبا وقفہ نہ کیا جائے ؛ بلکہ ایک عضو کے سوکھنے سے پہلے دوسرے عضو کو دھولینا سنت ہے ،اس کے خلاف کرنا مکروہ ہے ،لہذا ہاتھ اور چہرہ سوکھنے کے بعد پیر دھونا مکروہ ہوگا اور جان بوجھ کر تولیہ سے پوچھنا بھی مکروہ ہوگا؛ البتہ وضوء ہوجائے گا۔



(۳) وضوء میں غسل، یعنی عضو کو اتنا تر کرنا کہ دو تین قطرے ٹپک جائیں، ضروری ہے ، محض ہاتھوں کو تر کرکے پیرپر پھیر لینا کافی نہیں ہے ، اس طرح وضوء صحیح نہیں ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات