عبادات - طہارت

India

سوال # 157974

میرانام محمّد شاہنواز ہے ، میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں جس کے ٹوائلیٹ میں آنے والا پانی بنیادی طور پر کالا بدبودار پیشاب پاخانہ ملا ہوتا ہے ، پھر اسے مشین میں کیمیکل سے صاف کرنے پر نہایت صاف اور بدبو وغیرہ ختم ہو جاتا ہے ، لیکن کمپنی اس پانی کو پینے سے روکتی ہے تو کیا اس پانی سے وضو غسل اور استنجا پاک ہو سکتا ہے ؟ اور کیا یہ پانی پاک ہے ؟ جواب مرحمت مرحمت فرمایں۔ نوازش ہوگی، شکریہ

Published on: Jan 3, 2018

جواب # 157974

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:372-316/sd=4/1439



 ناپاک پانی مشین میں کیمیکل کے ذریعہ صاف کرنے سے پاک نہیں ہوتا ہے ، کیمیکل سے صرف ظاہری صفائی حاصل ہوتی ہے ، نجاست کی ماہیت تبدیل نہیں ہوتی ہے ،جس طرح وہ صفائی سے پہلے ناپاک تھا، اسی طرح صفائی کے بعد بھی ناپاک رہے گا، لہذا اُس سے وضوء، غسل اور استنجاء کرنا جائز نہیں ہے ؛ البتہ اگر ناپاک پانی کو پاک جاری پانی میں ملاکر بہا دیا جائے اور نجاست کا اثر ( رنگ، بو اور ذائقہ ) پانی میں ظاہر نہ ہو، تو یہ سب پانی پاک ہوجاتا ہے ۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات