عبادات - طہارت

india

سوال # 157491

حضرت، میں سعودی کام کرتا ہوں، اور میں جیسے ہی موبائل پر اپنی بیوی سے بات کرتا ہوں تو سفید ایک قطرہ نکل جاتا ہے۔ یا میں کوئی ایسی مووی (فلم) دیکھتا تو بھی ایسا سفید قطرہ نکلتا ہے۔ تو آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا اس سے آدمی ناپاک ہو جاتا ہے؟ یا کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں؟ یا قطرے کے باوجود ہم نماز ادا کرسکتے ہیں؟ یا پھر بس وہ جگہ ناپاک ہوتی ہے جس جگہ قطرہ لگا ہو؟ اگر اس جگہ کو دھو لیا جائے، تو کیا کپڑے اور جسم پاک رہتے ہیں، کیا پھر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
برائے مہربانی ضرور بتائیں۔

Published on: Jan 8, 2018

جواب # 157491

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:471-423/H=4/1439



بیوی سے گفتگو کرنے پر یا مووی دیکھنے پر جو قطرہ آتا ہے وہ مذی ہے اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جہاں جہاں جسم اور کپڑے پر وہ قطرہ لگے گا اتنا جسم اور اتنا کپڑا ناپاک ہوجائے گا، جسم اور کپڑے کے اس حصہ کو دھوکر وضوء کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں، یہ مذی کا حکم ہے، مذی سفید قطرہ کی صورت میں ہوتی ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ ابتداء شہوت میں نکلتی ہے اس کے نکلنے پر شہوت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اگر دفق یعنی کود کر مادّہ نکلے اور انزال ہوجائے تو وہ منی ہوتی ہے اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے نکلنے پر شہوت ختم ہوجاتی ہے، شہوت کے ساتھ منی نکل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اور جسم وکپڑے کے جس حصہ میں وہ لگے وہ حصہ بھی ناپاک ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں غسل کرکے جسم وکپڑے کو پاک کرکے نماز ادا کریں۔



نوٹ: فلم دیکھنا حرام وگناہ ہے سچی پکی توبہ کرنا اور آئندہ احتیاط رکھنا واجب ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات