عبادات - طہارت

Pakistan

سوال # 157022

حضرت، اپنی بیوی سے پیار کرنے کے دوران (یعنی مباشرت سے پہلے) یا کبھی مباشرت کا ارادہ نہ ہو اور اسے پیار کرے تو جو پانی جیسا لیس دار مذی نکلتا ہے کیا اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے؟ اور کیا یہ کوئی بیماری ہے یا فطری عمل؟ میں جب بھی اس نیت سے بیوی کے پاس جاتا ہوں تو اس کو ٹچ کرنے سے پہلے ہی لیس دار مذی نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

Published on: Dec 12, 2017

جواب # 157022

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:277-190/SD=3/1439



 مذی سے غسل واجب نہیں ہوتا؛ البتہ وضوء ٹوٹ جاتا ہے اور نکلنے والا مادہ ناپاک ہوتا ہے اور یہ فطری چیز ہے ، بیماری نہیں ہے۔ قال الحصکفی : (لا) عند (مذی أو ودی) بل الوضوء منہ۔قال ابن عابدین : (قولہ: لا عند مذی) أی لا یفرض الغسل عند خروج مذی۔ ( الدر المختار مع رد المحتار : ۱۶۵/۱، ط: سنن الغسل، ط: دار الفکر، بیروت )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات