عبادات - طہارت

India

سوال # 156682

حضرت، کیا باتھ روم میں ننگے ہوکر غسل کرسکتے ہیں؟ یا اَٹیچ باتھ روم میں دعا پڑھ سکتے ہیں؟

Published on: Dec 14, 2017

جواب # 156682

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:302-31T/L=3/1439



خلوت میں جہاں لوگوں کی نظر نہ پڑتی ہو، برہنہ ہوکر یعنی بغیر کسی کپڑے کے غسل ووضو کی گنجائش ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ لنگی یا کم ازکم انڈرویر پہن کر غسل کیا جائے۔ عن یعلی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رأی رجلاً یغتسل بالبراز فصعد المنبر فحمد اللہ وأثنی علیہ ثم قال: إن اللہ عز وجل حیي ستیر یحب الحیاء والستر فإذا اغتسل أحدکم فلیستتر (سنن أبو داوٴد کتاب الحمام، باب النہی عن التعري ص۵۵۷) ”فإذا اغتسل أحدکم“ أي: بحضرة الناس، ”فلیستتر“ علی الوجوب أو المراد علی العموم، فعلی ہذا إذا کان بحضرة الناس فعلی الوجوب وإذا کان في الخلوة فعلی الاستحباب وہو مذہب الأئمة بأنہ إذا اغتسل بحضرة الناس وجب علیہ ستر عورتہ فإن کان خالیاً جاز الغسل مکشوف العورة والتستر أفضل، ونقل عیاض جواز الاغتسال عریانا في الخلوة عند جماہیر العلماء لحدیث البخاري أن موسی اغتسل عریانا وأن أیوب کان یغتسل عریانا (بذل المجہود ۱۶: ۳۳۹مطبوعہ دار الکتب العلمیة بیروت)



(۲) اگر دیوار کے ذریعے دونوں میں آڑکر لیا جائے یا نجاست ظاہر نہ ہو تو بعض حضرات اکابر کی رائے کے مطابق غسل خانہ والے حصے میں زبان سے دعا پڑھنے کی گنجائش ہوگی؛البتہ اگر نجاست ظاہر ہو یا آدمی برہنہ ہو تو اس حالت میں زبان سے تسمیہ وغیرہ پڑھنا منع ہوگا، دل دل میں پڑھنابہرصورت جائزہوگا۔ قال الشرنبلالی: ویستحب أن لایتکلم بکلام مطلقاً أما کلام الناس فلکراہتہ حال الکشف وأما الدعاء فلأنہ في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال، أقول: قد عد التسمیة من سنن الغسل فیشکل علی ما ذکرہ تأمل․․․․ أقول أو المراد الکراہیة حال الکسف فقط کما أفادہ التعلیل السابق (درمختار مع الشامی ۱/۲۹۱، ط: زکریا) و قال في الدر المختار: إلا حال انکشاف وفي محل نجاسة فیسمی بقلبہ (درمختار) وفي الشامي: ولا یحرک لسانہ تعظیما لاسم اللہ تعالی (شامی: ۱/۲۲۷)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات