India

سوال # 69965

براہ کرم، شریعت کے مطابق کوموڈٹی تجارت کے بارے میں شرائط اور اصول بتائیں۔
میں روزانہ کی بنیاد پر کوموڈتی تجارت کرنا چاہتاہوں،اس کا طریقہ یہ ہوگاکہ اگر میں ستمبر کی پہلی تاریخ کو سونے کی ایک مقدار 31000روپئے میں خریدوں ایک مہینہ کے معاہدہ کے ساتھ تو میں تیس ستمبر تک منافع کے لیے قیمت بڑھنے تک انتظار کرسکتا ہوں؟ اور سونے کی یہ مقدار خریدنے پر مذکورہ رقم میرے اکاؤنٹ سے وضع ہوجائے گی۔اور سونا میرے تجارتی اکاؤنٹ میں آجائے گا۔اس کے بعد اگر قیمت گھٹ جاتی ہے تو مجھے نقصان کی بھرپائی کرنی پڑے گی اور اگر میں قیمت بڑھنے پر اس کو بیچ دوں تو مجھے اصل رقم 31000کے ساتھ منافع ملیں گے۔ اس میں حسی قبضہ نہیں ہوتاہے تو کیا میں یہ بزنس کرسکتاہوں؟یا اس بارے میں کوئی اصول و ضوابط ہیں؟

Published on: Nov 6, 2016

جواب # 69965

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1149-930/D=2/1438

کوموڈٹی تجارت کے بارے میں آپ نے جو تفصیل بیان کی ہے اس کی رو سے یہ تجارت دو وجہ سے ناجائز ہے:

پہلی وجہ سونا خریدنے والا سونے پر قبضہ کرنے سے پہلے سونا بیچ دیتا ہے یہ بیع قبل القبض ہے جو کہ ناجائز ہے ومن اشتری شیئاً مما ینقل ویحول لم یجز بیعہ حتی یقبضہ لأنہ نہی عن بیع مالم یقبض (ہدایہ: ۳/۷۷) وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ابتاع طعاماً فلا یبعہ حتی یقبضہ قال ابن عباس وأحسب کل شيء بمنزلة الطعام (مسلم شریف: ۲/۵)۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ خریدنے کے بعد آدمی کواختیار ہے کہ اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھے یا بیچ دے، اس کو کسی مدت کے ساتھ اس طرح مقید کرنا کہ اس مدت کے اندر بچنا  پڑے گا چاہے خریدی ہوئی چیز کی قیمت کم ہو یا زیادہ یہ شرط فاسد ہے نیز اس میں کبھی سٹے کی صورت پیدا ہوجاتی ہے اس لیے آپ ایسی تجارت نہ کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات