Pakistan

سوال # 6900

کیا اسلام میں شیئر کی خریدو فروخت یا شیئر بازار میں پیسہ لگانا جائز ہے؟ کیا یہ سود کے زمرہ میں آتا ہے؟

Published on: Aug 27, 2008

جواب # 6900

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1364=1279/ د


 


شیئر کی خریداری چند شرطوں کے ساتھ جائز ہے:


(ا) جس کمپنی کا شیئر خریدنا ہے وہ ایسے بینک کا جو سودی کاروبار کرتا ہو، شیئر نہ ہو، انشورنس کمپنی یا کسی حرام سامان تیار کرنے والی کمپنی یا شراب کی کمپنی نہ ہو۔


(ب) ابتدائی مرحلہ میں کمپنی نے اپنا کچھ منجمد اثاثہ بنالیا ہو، کمپنی کا کل سرمایہ نقد کی شکل میں نہ ہو ورنہ ایسی کمپنی کا شیئر اصل ویلو سے زائد یا کم پر خریدنا جائز نہ ہوگا۔


(ج) دوران کاروبار کمپنی نے اگر سودی لین دین تھوڑا بہت کیا ہو تو اس سے اپنی عدم رضامندی کا اظہار کرنا خواہ اس کی سالانہ میٹنگ میں یا کسی اور طریقہ پر۔


(د) اگر کچھ سودی لین دین کیا ہو تو اس پر جو نفع حاصل ہوا ہو، ملنے والے نفع میں سے اسی تناسب سے رقم صدقہ کردینا۔


(ھ) شیئر خریدنے سے مقصود کمپنی میں حصہ داری اور سرمایہ کاری ہو شیئر پر قبضہ حاصل کیے بغیر فروخت کردینا اور ڈفرنس برابر کرلینا سٹہ کی شکل ہے جو ناجائز ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات