Pakistan

سوال # 6669

میں اسلامک میوچول فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنارہاہوں (اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ عوام سے فنڈ جمع کرتے ہیں اور اس کو مختلف کمپنیوں کی ایکوٹی میں خرچ کرتے ہیں اور ان کو لون دے کر سود نہیں حاصل کرتے ہیں)۔ لیکن پریشانی کی بات یہ ہے کہ اگرچہ وہ لوگ بڑی کمپنیوں کوسود حاصل کرنے کے لیے کوئی فنڈ نہیں دیتے ہیں ، لیکن وہ کمپنیاں جس میں ہمارا فنڈ لگایا جاتا ہے عموماً ملٹی نیشنل کمپنیاں ہوتی ہیں جو کہ فائنانس سے متعلق سودی لین دین کرتی ہیں۔ میوچول فنڈ ہماریپیسہ کو کمپنی کے ایکوٹی میں لگاتا ہے جو کہ مجھے اپنا شیئر ہولڈر بھی بناتی ہے۔ کچھ شرطیں جوکہ سرمایہ کو اسلامی بناتی ہیں وہ اس طرح ہیں: (۱)کمپنی حرام معاملہ کا لین دین نہ کرتی ہو جیسے شراب، سور کی مصنوعات، اسلحہ، میوزک اورسامانِ لہو ولعب، اسلامی عقائد کی بنیاد کے خلاف منصوبے اور کسی علاقہ کے حیوان اورنباتات کیبے جا تباہی۔(۲) کمپنی انسانیت خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف کسی ظلم و ستم میں ملوث نہیں ہوتی ہے۔ (۳)سرمایہ کاری کی جانے والی چیزیں شریعت کے خلاف نہ ہوں۔ لیکن مجھے اس سود کی حقیقت کے بارے میں تشویش ہے جس کی یہ کمپنیاں لین دین کرتی ہیں۔میری رہنمائی فرماویں۔

Published on: Oct 16, 2008

جواب # 6669

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 950=874/ل


 


اگر وہ کمپنیاں جس میں آپ کا فنڈ لگایا جاتا ہے جائز تجارت کے ساتھ ضرورةً تھوڑا بہت سودی لین دین بھی کرتی ہیں، تو آپ یہ تحقیق کریں کہ آپ کی رقم کا کتنا حصہ سودی لین دین میں لگایا جارہا ہے اور اس پر کتنا سود مل رہا ہے، آپ اتنی (یعنی سودکی) مقدار فقراء پر صدقہ کردیں۔ باقی اگر وہ میوچول فنڈ شرکت کے اصولوں پر ہے یعنی پورے نفع سے اگر نفع متعین ہو یعنی نفع کی صورت میں اتنے فیصد آپ کے ہوں گے اور نقصان کی صورت میں آپ کی لاگت کے تناسب سے نقصان وصول کیا جائے گا تو اس میں پیسہ لگانا درست ہوگا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات