India

سوال # 60909

محترم علمائے کرام اور مفتیان کرام سے موٴدبانہ درخواست ہے کمپنیوں کے حصص کی فہر ست فراہم کریں جو شریعت کے مطابق ہو۔ نیز بتائیں کہ کس قسم کے شیئر میں پیسے لگانا شریعت میں ممنوع ہے؟

Published on: Sep 12, 2015

جواب # 60909

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 982-970/N=11/1436-U

کسی کمپنی کے حصص خریدنے کے لیے درج ذیل پانچ امور کی رعایت ضروری ہے، ورنہ اس کے حصص خریدنے کی اجازت نہ ہوگی:
(۱):وہ کمپنی وجود میں آچکی ہو ؛لہٰذا اگر ابھی اس کا وجود نہیں ہوا؛بلکہ صرف اسٹاک ایکسچینج میں اس کا اندراج ہوا ہے یا وہ صرف کاغذوں میں ہے تو اس کے حصص خریدنا جائز نہ ہوگا؛کیوں کہ اس صورت میں غیر مملوک شی کا خریدنا ہوگا، جو اسلام میں درست نہیں۔
(۲):کمپنی کا سارا اثاثہ اگر صرف سیال ہے، یعنی: نقد اور دیون کی شکل میں ہے تو حصص کی خریداری فکس ویلیو پر ہی ضروری ہے ، اس صورت میں فکس ویلیو سے کم وبیش پر خریداری جائز نہ ہوگی ؛کیوں کہ یہ سودی شکل ہے۔ البتہ اگر اس کا کچھ یا سارا اثاثہ منجمد ہے،یعنی: بلڈنگ ، مشینری وغیرہ کی شکل میں ہے تو فکس ویلیو سے کم وبیش پر بھی خریداری کرسکتے ہیں۔
(۳): کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہو ؛لہٰذا اگر اس کا اصل کاروبار حرام ہے، جیسے شراب کی کمپنی ہے تو اس کے حصص خریدنا جائز نہ ہوگا ؛کیوں کہ یہ حرام کاروبار میں شراکت داری ہے۔
(۴): اگر کمپنی کا اصل کاروبار حلال ہے، لیکن وہ بینک سے سودی قرض لیتی ہے یا زائد سرمایہ بینک میں رکھ کر سود حاصل کرتی ہے تو اس شرط کے ساتھ اس کے حصص خریدنے کی اجازت ہوگی کہ آدمی اس کی سالانہ جمعیت میں سودی لین دین کے خلاف آواز اٹھائے اور یہ کہے کہ میں اس پر راضی نہیں ہوں اگر چہ اس کی آواز پر کوئی دھیان نہ دیا جائے اور کوئی اس کی حمایت نہ کرے، ایسا کرنے سے آدمی سودی معاملہ کے گناہ سے بچ جائے گا ؛کیوں کہ اس کی جانب سے سودی لین دین کی وکالت ختم ہوگئی، البتہ بینک سے سود لینے کی صورت میں اس کے حصہ میں جو سود آئے وہ اپنے استعمال میں نہ لاکر بلا نیت ثواب کسی غریب کو دیدے۔
(۵):اور حصص کی خریداری کا مقصد سرمایہ کاری ہو، محض ڈیفرنس برابر کرنا نہ ہو ؛کیوں کہ محض ڈیفرنس برابر کرنے کے مقصد سے حصص کی خریداری میں سٹہ بازی کے معنی پائے جاتے ہیں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات