India

سوال # 5379

کیا اسلام میں شیئر کی روزانہ تجارت جائز ہے؟ یعنی اگر ہم کمپنی کا کوئیشیئرصبح کو خرید کرقیمت بڑھانے کی وجہ سے شام کو بیچنا چاہیں تاکہ ہمیں منافع ہو، تو کیا بیچ سکتے ہیں؟

Published on: Apr 28, 2008

جواب # 5379

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 292/ ل= 295/ ل


 


مسئلہ یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو قبضہ سے پہلے آگے فروخت کرنا جائز نہیں، البتہ قبضہ کے اندر ہمیشہ حسی قبضہ ضروری نہیں ہوتا بلکہ حکمی قبضہ بھی اگر ہوجائے یعنی وہ چیز ہمارے ضمان میں آجائے تو اس کے بعد بھی اس چیز کو آگے فروخت کرنا جائز ہے: لأن معنی القبض ھو التمکین والتخلی وارتفاع الموانع عرفًا وعادةً وحقیقةً (بدائع الصنائع: ج۴ ص۳۴۲، ط زکریا دیوبند) یہ تحقیق نہیں کہ واقعتا شیئرز خریدنے کے فورا بعد اس کا ضمان (Risk) منتقل ہوجاتا ہے یا نہیں؟ اس لیے احتیاط کا تقاضا بہرصورت یہی ہے کہ جب تک ڈلیوری نہ مل جائے اس وقت تک آگے فروخت نہ کیا جائے، واضح رہے کہ یہ حکم اس کمپنی کے شیئرز کے سلسلے میں ہے جس کے کچھ منجمد اثاثے ہوں مثلاً اس نے بلڈنگ بنالی ہو، یا زمین خریدلی ہو اور واقعتا کمپنی قائم کرکے اس نے کاروبار شروع کردیا ہو اور یہ امر تحقیق سے معلوم کرلیا ہو ورنہ کمی زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا حرام ہوگا۔ نیز مسلمان کے لیے شیئرز کی خرید و فروخت سے پہلے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کمپنی حرام کاروبار میں ملوث تو نہیں ہے؟ اور اگر اس کا سودی کاروبار میں ملوث ہونا ممبر بننے کے بعد معلوم ہو تو اس کی سالانہ میٹنگ میں اس کے خلاف آواز اٹھائے، اور جب منافع تقسیم ہوں تو اس وقت جتنا نفع کا جتنا حصہ سودی معاملہ سے حاصل ہوا ہو اس کو بلانیت ثواب فقراء پر تقسیم کردے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات