United Arab Emirates

سوال # 52698

ابوظہبی میں اسلامی بینکوں کے ذریعہ اسلامی فنڈمیں پیسے لگائے جاتے ہیں اور مختلف ممالک کے علماء پر مشتمل شرعیہ بورڈ نے اس کی منظوری بھی دیدی ہے ۔ سرمایہ کاری منافع فکس نہیں ہوتاہے اورنہ ہی بینک پہلے سے اس بارے میں اعلان کرتاہے ، حتی کہ اصل رقم کی بھی کوئی گارٹنی نہیں ہے بلکہ اس میں نقصان کا بھی خطرہ رہتاہے تو کیا اس میں پیسے لگانا جائز ہے؟

Published on: Aug 7, 2014

جواب # 52698

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1154-47/N=10/1435-U

اگر یہ شریعت کے مطابق شرکت یا مضاربت کی صورت ہے اوراس میں شرکت یا مضاربت کے جملہ اصول وشرائط ملحوظ رکھے جاتے ہیں اور سرمایہ بھی جائز کاروبار ہی میں لگایا جاتا ہے تو اس میں پیسے لگانا درست ہے، ورنہ نہیں۔ اور جواز کی صورت میں اچھی طرح تحقیق کے بعد ہی سرمایہ کاری کریں، صرف سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہ کریں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات