Pakistan

سوال # 52322

مولاناصاحب میں پاکستان میں رہتا ھوں میں یہ پوچھنا چاھتا ھوں کہ ھم نے کسی کو 400000 روپے ادھار دیے ھیں۔اور وہ آدمی ان پیسوں کو اپنے کاروبار میں استعمال کرتا ہے ۔وہ منی چینجر کا کام کرتا ہے ۔ اور وہ ہمیں ہر مہینے کچھ منافع دیتا ہے ۔ اور جو پیسے ہم نے اس کو دیے ہیں وہ ہم کسی بھی وقت واپس لے سکتے ہیں یہ پیسے فکس نہیں ہے ۔ مولانا صاحب یہ بتا دے کہ یہ اسلام میں جایز ہے کہ نہیں۔ جائز یا ناجائز ہو نے کی وجوہات بھی پیش کرے ۔ مولانا صاحب جلدی اور مفصل جواب دے۔

Published on: Apr 29, 2014

جواب # 52322

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 740-517/L=6/1435-U

شریعت نے نفع کے حصول کے لیے عقود کو مشروع کیا ہے، اس لیے اگر آپ قرض دینے الے سے شرکت یا مضاربت کا معاملہ نہیں کرتے ہیں تو محض قرض دے کر نفع کا معاملہ کرنا آپ کے لیے جائز نہ ہوگا، یہ سود میں داخل ہوگا۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات