India

سوال # 48820

(۱) شیئر خریدنے کے دو دن بعد وہ شیئر ہمارے اکاؤنٹ میں جمع ہوتاہے تو کیا ہم اس کو جمع ہونے سے پہلے بیچ سکتے ہیں؟
(۲) آج کل شیئر کے دلال یہ سہولت دیتے ہیں ک شیئر جمع ہونے سے پہلے بھی تم بیچ سکتے ہو ، شاید ہمارا شیئر جو جمع ہو نے والا ہے اس کے سامنے وہ اپنے جمع شیئر بیچتے ہوں گے تو کیا یہ ادھار لیے شیئر سمجھ کر ہم بھی اس طرح بیچ سکتے ہیں ؟
(۳) اسی طرح ہم نے آج کوئی شیئر بیچے جس کے پیسے دو دن بعد ہمارے اکاؤنٹ میں جمع ہوں گے تو پیسوں کے جمع ہونے سے پہلے اس سے کوئی شیئر ہم خرید سکتے ہیں ؟ اسٹاک ایکسچینج اور دلال کے یہاں یہ سہولت ہوتی ہے کہ شیئر بیچتے ہی اس کی قیمت برابر ہم دوسرے شیئر خرید سکتے ہیں جب کہ پیسے نکالنا ہو تو دو دن کے بعد جمع ہونے پر نکال سکتے ہیں؟ ہم کیا کریں ؟

Published on: Nov 9, 2013

جواب # 48820

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1737-1367/B=1/1435-U

شیئر کی خرید وفروخت کا مروجہ طریقہ یعنی ایک دو دن کے بعد ہی فروخت کردینا یہ جائز نہیں، یہ تو نقد کی بیع نقد کے ساتھ ہوگئی اس کو بیع صرف کہتے ہیں، نقد کی بیع نقد کے ساتھ کمی بیشی کے ساتھ جائز نہیں، یہ سود کی شکل ہے، شیئر خریدنے کے بعد سال چھ مہینے کاروبارکیا جائے پھر اس میں جونفع ہو اپنے پیسوں کے تناسب سے نفع تقسیم کرسکتے ہیں، آج کل شیئر کی جو خرید وفروخت ہورہی ہے یہ سب ہوائی خرید وفروخت ہے، شریعت اسلام میں یہ طریقہ ناجائز و حرام ہے اور سود ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات