India

سوال # 448

کیا چور بازار سے چوری کے جوتے خرید کر اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں؟ یہی مسئلہ میں نے دیوبند کے ایک عالم سے پوچھا تھا تو انھوں نے چوری کے جوتے کو خرید کر اپنے استعمال میں لانے کو جائز کہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قصہ سنایا جس میں ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کچھ کام کے لیے اپنے گھوڑے کو ایک آدمی کے حوالے کر کے گئے، جب واپس آئے تو گھوڑے کی زین وہ آدمی چوری کر کے چلا گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب بازار میں نئی زین لینے گئے تو وہاں پر ان کی چوری کی زین بک رہی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس چوری ہوئی زین کو خرید لیا۔ یہ قصہ سنا کر عالم صاحب نے کہا تھا کہ چوری کے جوتے خرید کر اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں۔ چناں چہ اس مسئلہ میں آپ کا جواب چاہتا ہوں۔

Published on: Apr 30, 2007

جواب # 448

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 339/ب=345/ب)


 


چوری کے جوتے پر چور کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لیے چور سے جوتے خریدنا جائز نہیں، جب کہ یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ وہ جوتے چوری کے ہیں؛ کیوں کہ چور بازار تو بازار کا نام ہے، اس میں صحیح مال بغیر چوری کا دوکان دار اپنے پیسوں سے جائز طریقے پر لاتے اور چور بازار میں فروخت کرتے ہیں۔ یعنی چور بازار میں ہر مال کا چوری کا ہونا ضروری نہیں ہے، عموماً خریداری کا مال ہی وہاں فروخت ہوتا ہے؛ لہٰذا عام مال کی خریداری درست ہوگی۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات